تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 271 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 271

تاریخ احمدیت۔جلد 25 271 سال 1969ء تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے ملاقات کی۔آپ کے ہمراہ آپ کی بیوی اور ایک بچہ بھی تھا۔آپ کی بیوی بچہ سمیت حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہاں تین دن تک رہی۔اور حضرت اماں جان کا پاکیزہ طرز عمل اور اسلامی ماحول دیکھ کر وہ دل و جان سے اسلام پر فدا ہوگئیں۔چوتھے دن آپ نے مائی کا کو مرحومہ کے ذریعہ اپنی بیوی کو پیغام بھیجا کہ آؤ چلیں مگر اس نے کوئی جواب نہ بھیجا۔آپ نے مائی کا کو صاحبہ کو ایک روپیہ بطور انعام دیا اور ان کے ذریعہ اپنی بیوی کو پھر پیغام بھیجا۔اس نے کہلا بھیجا میں نہیں آؤں گی۔میں نے جو نور پانا تھا پالیا۔تین چار بار بلایا پر آپ کی بیوی نہ آئی پھر آپ اپنی ملازمت پر امرتسر چلے گئے۔آپ نے جب وہاں اپنے بہنوئی سے اس بات کا ذکر کیا تو اس نے ہنس کر کہا کہ اب وہ نہ آئی۔اس کے بعد آپ قادیان آتے جاتے رہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے سردار محمد یوسف صاحب مرحوم ایڈیٹر نو کو ہدایت فرمائی کہ وہ آپ کو اسلامی تعلیم سے آگاہ کریں۔چنانچہ انہوں نے آپ کو تبلیغ کرنی شروع کر دی۔آپ نے خود ہی اسلامی کتب کا از سرنو مطالعہ کرنا شروع کر دیا اور اسلام کی صداقت آپ پر واضح ہو گئی۔سردار محمد یوسف صاحب بیعت کے لئے آپ کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی خدمت میں لے گئے اور آپ نے ۱۹۲۷ء میں حضور کے ہاتھ پر بیعت کی۔آپ کی جوانی کی عمر تھی اور صحت بہت اچھی تھی۔ایک دفعہ قادیان ریتی چھلہ میں مخالفین کا جلسہ ہوا۔ان کے بلائے ہوئے مقررین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں بہت گستاخی کی۔آپ سے برداشت نہ ہو سکا۔غصہ کی حالت میں حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ حضور آپ کو گالیاں سن کر برداشت کرنے کی عادت ہوگئی ہے۔مگر میں تو برداشت نہیں کر سکتا۔میں ان سے ضرور بدلہ لوں گا۔حضور ناراض ہوئے اور فرمایا میں اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔البتہ تمہارے لئے دعا کروں گا کہ اللہ تعالی تمہیں بھی صبر کی توفیق دے۔۱۹۴۷ء میں جبکہ فرقہ وارانہ فسادات زوروں پر تھے۔آپ اپنے گاؤں کے سکھوں کے بدلے ہوئے تیور دیکھ کر اپنے چار بیٹوں چار بہوؤں اور پوتوں اور پوتیوں کے ساتھ اپنے گھر ڈ ہرانوالہ سے نکل کر قادیان کی طرف چل پڑے۔نہر تتلہ والی پار کر کے آپ کو پاخانہ کی حاجت ہوئی۔آپ ایک طرف ہو گئے۔اتنے میں سکھوں کا ایک جتھہ نمودار ہوا اور اس نے آپ کے بال بچوں پر حملہ کر دیا۔آپ کے چار بیٹے اور پوتے کافی جوان تھے۔انہوں نے عورتوں اور بچوں کو علیحدہ کر کے جتھہ کا