تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 270 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 270

تاریخ احمدیت۔جلد 25 مولوی محمد یسین صاحب محر لنگر خانه (وفات: ۷ دسمبر ۱۹۶۹ء) 270 سال 1969ء اصل وطن موضع ہمسول ضلع جہلم۔بچپن میں ہی یتیم ہو گئے۔حافظ غلام علی صاحب (خسر منوراحمد صاحب جہلمی کارکن صدر انجمن احمد یہ ربوہ) نے ان کو اپنی کفالت میں لے لیا۔۱۹۲۸ء کے قریب ہجرت کر کے قادیان چلے گئے اور ہجرت تک قادیان میں دھونی رمائے بیٹھے رہے۔قادیان میں جب حضرت سید میر محمد الحق صاحب کے دامن فیض سے وابستہ ہوئے تو ایثار و قربانی میں جلد ترقی کرنے لگے۔حضرت میر صاحب کی بے مثال شفقت علی خلق اللہ اور ہمدردی کا مولوی صاحب پر ایسا گہرا اثر پڑا کہ حضرت میر صاحب کی جھلک ان میں بھی نظر آنے لگی اور اُن کے دل میں بھی حضرت میر صاحب کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت اور غرباء کی حاجت روائی کا جذبہ پیدا ہو گیا۔آپ بہت خلیق ، صوفی منش اور درویش طبع بزرگ تھے۔پیغام حق پہنچانے کا بہت شوق تھا اور تبلیغی خطوط لکھتے رہتے تھے۔بھائی شیر محمد صاحب آسٹریلیا والے (وفات: ۱۲،۱۱ دسمبر ۱۹۶۹ء) آپ نے عمر عزیز کا بیشتر حصہ آسٹریلیا میں گزارا اور تجارت کے ساتھ ساتھ آنریری مبلغ کے فرائض انجام دیتے رہے اور لٹریچر وغیرہ کا تمام خرج خود برداشت کرتے رہے۔پھر آپ لا ہور آ گئے اور وہیں آپ کی وفات ہوئی۔142 سردار سلطان احمد صاحب (وفات: ۱۶ دسمبر ۱۹۶۹ء) آپ ۱۸۹۴ء میں پیدا ہوئے۔آپ کا اصل مسکن ڈہر یوالہ نزد قادیان تھا۔آپ کے والد صاحب کا نام جواہر سکھ تھا۔سکھ ہونے کی حالت میں آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں پڑھتے رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت سے تین سال تک مشرف ہوتے رہے۔میٹرک پاس کرنے کے بعد گوردوارہ امرتسر میں ملازم ہوئے۔آپ کی بیوی ڈہر یوالہ میں پڑھایا کرتی تھی۔آپ چونکہ قادیان ہائی سکول میں پڑھے ہوئے تھے اس لیے قادیان آنا جانا تھا۔ایک دفعہ آپ قادیان آئے