تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 269 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 269

تاریخ احمدیت۔جلد 25 269 سال 1969ء در پیش ہو خود کرتے تھے۔بزرگوں کی روٹی لنگر خانہ سے لا کر دینے اور احمد یہ شفا خانہ سے بوقت ضرورت دوائی لا کر دینے کے لئے خدام ڈیوٹی پر موجود تھے مگر بابا جی جب تک چلنے پھرنے کے قابل تھے یہ جملہ کام خود ہی کر لیا کرتے تھے۔اپنے کپڑے بھی خود دھولیا کرتے۔مرزا بشیر احمد صاحب درویش ولد مرزا بہادر بیگ موضع نسو والی سویل خورد ضلع گجرات 139 (وفات: ۲۶ نومبر ۱۹۶۹ء) آپ بھی ان خدام میں سے تھے جنہیں مستقل خدمت کے لیے قادیان بلوایا گیا تھا اور انہیں صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے کچھ گزارا بھی دیا جاتا تھا۔۱۹۵۲ء میں جب دیگر درویشان کے بال بچے قادیان آئے تھے تو ان کی فیملی بھی قادیان آگئی تھی۔کثیر العیال تھے اور گزارانگی سے ہوتا تھا۔نہایت سادہ طبیعت پائی تھی۔کئی دفاتر میں بطور مددگار کارکن خدمت کی توفیق پائی۔۱۹۵۲ء سے ۱۹۵۴ء تک آپ مہمانوں کو کھانا کھلانے کی ڈیوٹی پر متعین تھے تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی اپنے دستخط کر لیتے تھے ٹھیٹھ پنجابی زبان بولتے تھے مگر قادیان کے ماحول سے متاثر ہوکر اردو پنجابی ملی جلی گفتگو بھی کر لیتے تھے جو نہایت پیاری لگتی تھی۔جس ڈیوٹی پر بھی لگایا جاتا بڑی توجہ اور فرمانبرداری سے اسے بجالاتے۔وفا کا مادہ آپ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔افسران کی اطاعت دل و جان سے کرتے تھے۔اپنی اولاد کو بھی یہی نصیحت کرتے تھے۔نہایت درجہ کے صابر تھے۔اپنے معاملہ میں کسی غرض سے شور مچانے والے نہ تھے۔۱۹۶۵ء کی جنگ کے نتیجہ میں ایک دم قیمتیں بڑھ گئی تھیں اور مہنگائی نے اوسط درجہ کے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔اس وقت بعض بعض گھروں میں چولہا تک نہ جلتا تھا اور سالن تو اکثر گھروں میں روزانہ نہ پکتا تھا۔نمک مرچ اچار سے کام چلتا تھا۔جن درویشان کے کسی روز چولہا نہ جلنے کی خبرماتی فورا لنگر خانہ سے ان کے طعام کا انتظام کیا جاتا۔سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا حکم تھا کہ کوئی بھوکا نہ رہے۔مرزا صاحب بھی کثیر العیال تھے اور آمد بہت کم۔آپ کے گھر بھی چولہا نہ جلا اور آپ نے صبر اور وفا پر عمل کرتے ہوئے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔دوسرے روز یہ خبر عام ہوگئی تو فوراً کھانے کا انتظام کیا گیا۔آپ وضو کر کے نماز کے لیے تیار تھے۔اہلیہ نے کہا کھانا آگیا ہے کھالیں کہنے لگے تم سالن گرم کرو میں اتنی دیر میں نماز پڑھتا ہوں۔اہلیہ سالن گرم کر کے تیار ہو گئیں کہ مرزا صاحب سجدہ سے سر اٹھا ئیں تو کھانا پیش کر دیں۔مرزا صاحب ہیں کہ سجدہ سے سر ہی نہیں اٹھا رہے۔آخر قریب آکر دیکھا تو مرزا صاحب وفات پاچکے تھے۔