تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 268
تاریخ احمدیت۔جلد 25 268 سال 1969ء زائد بچے تھے لیکن ہمارے والد ماسٹر محمد عیسی ظفر صاحب اور والدہ صاحبہ حلیمہ بی بی صاحبہ کے ہاں، ان کی شادی کے پانچ سال بعد ہمارے بڑے بھائی مکرم محمداحمد ظفر صاحب ( حال کارکن دفتر امور عامه، صدر انجمن احمد یہ ربوہ) پیدا ہوئے۔اور پھر مزید تین سال کے انتظار کے بعد ہمارے دوسرے بھائی مکرم محمد منور ظفر صاحب ( سابق کارکن صدر انجمن احمد یہ ربوہ ، حال مسی سا گا، کینیڈا ) اکتوبر ۱۹۶۹ء میں پیدا ہوئے تو ان کی پیدائش کے صرف ڈیڑھ ماہ بعد ۲ رمضان المبارک بمطابق ۱۲ نومبر ۱۹۶۹ء کو ۷۵ سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو قبولیت بخش کر آپ کو اپنی تمام اولاد کے کم از کم دو دو بچوں کی پیدائش آپ کی زندگی میں دکھا دی۔ایک وقت تھا کہ اولا د نہ ہونے کی وجہ سے چوہدری محمد یوسف صاحب نے اپنی آدھی جائیداد دے کر ایک شخص کو اپنا بھائی بنالیا اور رقیہ بی بی صاحبہ نے اسلام احمدیت کے لئے اپنے ماں باپ کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا۔لیکن خدا نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا اور آج ان کی نسل آسٹریلیا سے لے کر کینیڈا تک پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔اور حتی المقدور اسلام احمدیت کی خدمت کی توفیق پا رہی ہے۔نیز کئی سعید روحوں کو احمدیت کی سچائی سے روشناس کر چکی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے ایک خطبہ جمعہ میں حضرت عبداللہ سنوری صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ان کے ذریعہ غوث گڑھ میں جن لوگوں نے احمدیت قبول کی مجھے یقین ہے کہ ان کی نسلیں پوری دنیا میں پھیل چکی گی۔66 ہوں کی۔138 با با فضل احمد صاحب در ولیش ولد میر داد صاحب ساکن گھٹیالیاں (وفات: ۷ انومبر ۱۹۶۹ء) ۱۹۴۷ء میں ۱۵ نومبر کو آخری قافلہ پاکستان جانے کے بعد جو درویشان قادیان میں رہ گئے تھے وہ سوائے ۱۲۱۰ / افراد کے جو انصار اللہ کی عمر میں تھے باقی تمام درویش نوجوان تھے اس لئے سیدنا حضرت اصلح الموعود نے ۱۹۴۸ء میں جن درویشوں کا تبادلہ ناگزیر تھا ان کی جگہ تبادلہ میں معمر افراد کو بھجوایا۔۱۳ مئی ۱۹۴۸ء میں جو قافلہ آیا وہ سب بزرگ افراد پر مشتمل تھا۔اسی قافلہ میں مکرم چوہدری (بابا) فضل احمد صاحب آف گھٹیالیاں قادیان آکر درویشان میں شامل ہوئے تھے۔زبان ٹھیٹھ پنجابی ، لباس ٹھیٹھ پنجابی، آواز بلند رعب دار، قد لمبا، جسم بھرا ہوا۔گاؤں میں آپ نمبر دار تھے۔چال ڈھال، بول چال اور رکھ رکھاؤ میں خالص نمبر دار، سوال کرنے کی عادت نہیں تھی۔اپنا چھوٹا موٹا جو بھی کام