تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 262 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 262

تاریخ احمدیت۔جلد 25 262 سال 1969ء ہمدردی سے پیش آتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں اور ان کی خدمت اور مہمان نوازی نہایت خندہ پیشانی اور خلوص دل سے کرتے تھے۔الطاف حسین خان صاحب شاہجہانپوری ( وفات ۳۰ را گست ۱۹۶۹ء) 125 اودے پور کٹیا مولد تھا جو شاہجہانپور کے دس میل کے فاصلہ پر ہے۔حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری کے ذریعہ احمدیت کی نعمت اور تبلیغی تربیت نصیب ہوئی۔آپ اپنے خاندان میں پہلے احمدی تھے۔بیعت کے بعد آپ کی بہت مخالفت بھی ہوئی اور گھر سے بھی نکال دیے گئے مگر آپ کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔آپ خدا کے حضور دعاؤں میں لگے رہے کہ آپ کا خاندان بھی ہدایت پا جائے چنانچہ آپ کی دعائیں رنگ لائیں اور آپ کا خاندان اور رشتہ دار احمدیت کی آغوش میں آگئے۔آپ گاؤں سے پندرہ میل دور تک جاتے اور لٹریچر تقسیم کرتے۔ملکانہ تحریک کے خلاف جہاد میں حصہ لیا۔بہت نڈر اور جو شیلے احمدی تھے۔احمدیت کا پیغام پہنچانا ان کی روح کی غذا تھی اور بعض اوقات وہ سارا سارا دن اسی میں مصروف رہتے تھے۔بہت سے لوگ آپ کی تبلیغ اور نمونہ سے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔اودے پور کٹیا کی مخلص جماعت جس کے آپ ہجرت پاکستان سے قبل صدر رہے۔آپ کی بہترین یادگار ہے اس طرح اس جماعت کی خوبصورت مسجد بھی۔سلسلہ احمدیہ کی بیش قیمت کتابوں کا خاصا ذخیرہ آپ کے پاس موجود تھا۔آریوں اور عیسائیوں کو ایسا مدلل اور مسکت جواب دیتے کہ اسے دم مارنے کی مجال نہ ہوتی۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق تھا۔بیماری کے ایام میں بھی ہسپتال میں آپ بستر پر ہی لیٹے لیٹے حضور علیہ السلام کے اشعار پڑھتے اور ساتھ ہی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔126 منشی غلام محمد صاحب پنشنرز آف موضع ہجکہ بھیرہ ( وفات ۴/۳ ستمبر ۱۹۶۹ء) آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ پایا۔کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مطالعہ کرنے کے بعد دل سے مصدق ہو گئے تھے اور ایمان لے آئے مگر بیعت حضرت خلیفتہ اسیح الاول کے ہاتھ پر کی۔آپ موصی تھے۔آپ کی امانتا تد فین اپنے گاؤں میں ہوئی۔127