تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 259 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 259

تاریخ احمدیت۔جلد 25 259 سال 1969ء حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے دست مبارک پر آپ نے بیعت کی اور اس کے بعد مخالفت کے طوفانوں کا جوانمردی سے سامنا کیا۔آپ گورداسپور کے رہنے والے تھے۔قیام پاکستان کے بعد ملیانوالہ سیالکوٹ میں قیام پذیر ہوئے۔ملیا نوالہ کے نواح میں آپ کی پرزور تبلیغ کے نتیجہ میں جماعتیں قائم ہوئیں۔آپ آنریری طور پر اصلاح وارشاد کا کام بھی کرتے رہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مجاہد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بعض احباب کو تبلیغ کر رہا تھا تو ضمناً آپ کا ذکر بھی آ گیا۔ایک غیر احمدی نے کہا کہ گو میں احمدی نہیں ہوں لیکن مجھے یقین ہے اگر کوئی آدمی بھوکا ہو اور وہ مولوی فضل الدین صاحب کی زیارت کرے تو ان کی برکت سے اسے کھانا مل جاتا ہے۔آپ موصی تھے۔جب حضرت خلیفہ المسیح الثالث کو آپ کا علم ہوا تو حضور باوجود اس کے کہ نماز عشاء پڑھ کر قصر خلافت میں تشریف لے جاچکے تھے واپس تشریف لے آئے اور فرمایا کہ میں انہیں جانتا ہوں اور پھر جنازہ پڑھایا۔120 ایمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ قاضی محمد شریف صاحب لاسکیپور (وفات: ۱۶ جولائی ۱۹۶۹ء) آپ نے اپنی اوائل ازدواجی زندگی میں خود محنت اور شوق سے لکھنے پڑھنے کا ملکہ پیدا کیا۔عبادت گزار اور کثرت سے دعائیں کرنے والی خاتون تھیں۔آپ میجر ڈاکٹر محمود احمد صاحب شہید کی والدہ تھیں۔اپنے فرزند کی المناک شہادت پر قابل تعریف صبر کا نمونہ دکھایا۔سلسلہ کی تحریکات میں شوق سے حصہ لیتیں۔شہر لاہور کی لجنہ کی ابتدائی دور میں پریذیڈنٹ بھی رہیں۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔121 ابواحمد مرزا جمال احمد صاحب (وفات: جولائی ۱۹۶۹ء) آپ صدر جماعت احمد یہ بیروت (لبنان) تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ قیام لاہور کے دوران انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران مشرق وسطی میں تھے اور خاتمہ جنگ کے بعد حیفا میں آباد ہو گئے اور مولانا ابوالعطاء صاحب کے ذریعہ احمدیت قبول کی۔تقسیم فلسطین کے بعد بیروت میں آباد ہو گئے۔جماعت کے روح رواں اور اپنی ذات میں