تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 258
تاریخ احمدیت۔جلد 25 258 سال 1969ء اس لیے ان کو چھوڑ کر چک ۳۰/R۔L ضلع ساہیوال میں بطور ٹیچر ملازمت شروع کر دی لیکن دیار حبیب سے دور ہونے کے باعث اس ملازمت کو چھوڑ کر قادیان میں جا کر تعلیم الاسلام ہائی سکول میں ملازمت اختیار کی۔آپ گرمیوں کی رخصتوں کو دینی خدمت میں بسر کرتے۔ایک دفعہ مرکز نے ایک وفد جلال آباد ضلع گورداسپور بھجوایا۔آپ بھی اس میں شامل تھے۔جب یہ وفد جلال آباد پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے انتہائی تکالیف دیں۔لیکن ان کی تمام باتوں کوصبر اور تحمل سے برداشت کیا اور مرکز کے حکم کے مطابق اپنا پورا وقت گزار کر واپس آئے۔آپ کی کوششوں سے کئی لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔حضرت خلیفہ امسیح الثالث کی تحریک تعلیم القرآن کو اپنے چک میں جاری فرمایا اور اس مبارک تحریک کو تمام جماعت میں پھیلایا۔۱۹۴۷ء کے پر آشوب زمانہ میں بھی آپ جماعت تلونڈی جھنگلاں کے پریذیڈنٹ تھے۔آپ نے اس زمانہ میں گاؤں کے لوگوں کے حوصلوں کو بلند رکھا اور دن رات یہ تلقین کرتے تھے کہ گاؤں کو اس وقت تک مت چھوڑیں جب تک کہ حضرت مصلح موعود کی طرف سے حکم نہیں آتا۔ایک زمین کے ٹکڑا کے لیے دیوانی عدالت میں دعویٰ دائر تھا۔فریق مخالف کو آپ پر یقین تھا کہ آپ سچ ہی بولیں گے چنانچہ انہوں نے آپ کی گواہی رکھ لی۔جب مقدمہ پیش ہوا تو آپ نے تمام واقعات بتا دیے۔اس پر جج نے فریق مخالف کے حق میں فیصلہ کر دیا۔آپ نے فرمایا کہ میں جھوٹ بول کر اپنی عاقبت خراب نہیں کرنا چاہتا خواہ مجھے ظاہرا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔سید محمد ہاشم صاحب بخاری مولوی فاضل او۔ٹی (وفات: ۲۸ جون ۱۹۶۹ء) 118 حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری کے حقیقی بھانجے تھے۔عرصہ دراز تک بطور مدرس کام کرتے رہے۔ریٹائر ہونے کے بعد آپ خدمت دین کے لئے وقف ہو گئے اور قریباً چار سال تک غانا اور سیرالیون میں تبلیغی خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔مغربی افریقہ سے واپسی کے بعد آپ نظارت اصلاح وارشاد میں انسپکٹر کی حیثیت سے آخر دم تک دینی خدمات بجالاتے رہے۔مولوی فضل الدین صاحب آف ملیا نوالہ سیالکوٹ (وفات: الجولائی ۱۹۶۹ء)