تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 257 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 257

تاریخ احمدیت۔جلد 25 257 سال 1969ء میں مصافحہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی تھی۔آپ بہت دعا گو عبادت گزار اور ملنسار بزرگ تھے۔ملک خیر الدین صاحب در ولیش (وفات: ۲۳ جون ۱۹۶۹ء) آپ پیدائش کے لحاظ سے موضع لودی منگل کے رہنے والے تھے۔آخری عمر قادیان میں گزارنے کے ارادہ سے ۱۹۴۰ء کے لگ بھگ گاؤں سے ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے۔۱۹۴۷ء میں جب حالات قابو سے باہر ہو گئے اور قادیان کی آبادی کو مجبوراً ہجرت کرنا پڑی تو ان ایام میں بوڑھوں بچوں اور خواتین کو ترجیحی بنیاد پر ٹرکوں پر بھجوانے کا سلسلہ جاری تھا۔ملک صاحب بھی ایک کنوائے میں پاکستان چلے گئے۔کچھ دنوں کے بعد جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے ملاقات ہوئی تو حضور نے پوچھا کہ آپ تو زندگی کے آخری دن قادیان میں گزارنے کے لئے وہاں گئے تھے۔آپ یہاں کیوں چلے آئے تو عرض کیا حضور مجھ سے غلطی ہو گئی۔انتظام کرنے والوں نے مجھے بوڑھا سمجھ کر ٹرک میں بٹھا دیا میں یہاں چلا آیا۔اب پچھتا رہا ہوں کہ میں کیوں آیا اور اب کس طرح واپس جاؤں۔حضور نے فرمایا دفتر میں واپس قادیان جانے والوں میں اپنا نام لکھوا دو۔میں نے دفتر میں آکر اپنا نام قادیان جانے والوں کی فہرست میں لکھوادیا اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں پھر قادیان پہنچ گیا۔چوہدری نواب دین صاحب آف تلونڈی جھنگلاں ضلع گورداسپور (وفات: ۲۴ جون ۱۹۶۹ء) 117 آپ صوم وصلوٰۃ اور احکام شریعت کی پابندی کرنے والے ابتدائی عمر سے با قاعدگی کے ساتھ تہجد پڑھنے والے متقی اور بزرگ تھے۔ایک لمبا عرصہ بطور ٹیچر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں خدمت سلسلہ کی توفیق ملی۔۱۹۴۷ء میں پارٹیشن کے بعد بطور پنشنر صدر انجمن احمد یہ ریٹائر ہوئے۔تقسیم ملک تک جماعت تلونڈی جھنگلاں کے اور ہجرت کے بعد چک ۲۱۹ ر۔ب ملوئیاں والا ضلع فیصل آباد کے پریذیڈنٹ کے فرائض سرانجام دیتے رہے اور اپنی زمین میں سے ایک حصہ پر پختہ مسجد تعمیر کرنے کی توفیق پائی۔سچائی اور غرباء کی ہمدردی ان کا شعار تھا۔آپ کے فرزند چوہدری حفیظ احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ آپ نے پرائیویٹ طور پر تعلیم حاصل کی اور پھر پہلے پولیس کے شعبہ میں اور بعد میں پٹوار کے شعبہ میں ملازمت کی۔لیکن ان محکموں میں جھوٹ اور رشوت کا دور دورہ تھا