تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 256
تاریخ احمدیت۔جلد 25 256 سال 1969ء رہے۔آپ پریذیڈنٹ بھڈال ضلع سیالکوٹ و نائب امیر حلقہ بھی رہے۔بہت نیک مخلص اور فدائی احمدی تھے۔113 رشیدہ حسین صاحبہ ایم۔اے (وفات: ااجون ۱۹۶۹ء) مولوی محمد حسین صاحب فاضل عربی کی صاحبزادی تھیں۔نحیف ونزار ہونے کے باوجود خدمت اسلام کے کاموں اور اپنے عزم اور محنت و جانفشانی میں ایک چٹان کی حیثیت رکھتی تھیں۔حضرت سیدہ ام متین صاحبہ تحریر فرماتی ہیں کہ ۱۹۶۳ء میں میں نے ان کو لجنہ اماءاللہ مرکز یہ میں شامل کیا اور نائب سیکرٹری مال کا عہدہ دیا تا وہ کام سیکھ لیں۔انہوں نے اتنا اچھا کام کیا کہ ۱۹۶۴ء میں جب مجلس عاملہ کی تشکیل کی گئی تو ان کو سیکرٹری مال لجنہ مرکز یہ بنا دیا گیا۔اس وقت سے جس دن تک وہ فوت ہوئیں نہایت تندہی ، جانفشانی، انہماک اور خلوص سے انہوں نے کام کیا۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن میں یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ جو کام ان کے سپرد کیا گیا وہ اس طرح کریں کہ کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔رشیدہ حسین نے جب سے یہ عہدہ سنبھالا اتنی اچھی طرح یہ کام سنبھالا کہ مجھے احساس ہوا کہ واقعی مجھے لجنہ کے کاموں میں ایک دست راست مل گئی ہے۔114 با بونیم اللہ صاحب کا رکن صدر انجمن احمد بہ قادیان (وفات: ۱۵ جون ۱۹۶۹ء) آپ نے ملٹری سروس سے پینشن پانے اور اس کے بعد ریلوے میں سرکاری ملازمت چھوڑ کر معمولی مشاہرہ پر صدر انجمن احمدیہ کی ملازمت اختیار کر لی۔بہت نیک دل، دعا گو، سلسلہ اور مرکز قادیان سے محبت رکھنے والے اور صدرانجمن احمدیہ کے مستعد کارکن تھے۔شیخ اکبر علی صاحب بٹالوی برادر نسبتی حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی (وفات: ۱۶ جون ۱۹۶۹ء) آپ نے بذریعہ خواب حضرت خلیفہ المسیح الاول کے دست مبارک پر ۱۹۰۸ء میں بیعت کی تھی اور بیعت کرنے کے بعد آپ کی تبلیغ کے نتیجہ میں آپ کے تین بھائی اور خاندان کے بہت سے افراد بھی سلسلہ میں داخل ہو گئے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ قبل از بیعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بٹالہ