تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 251
تاریخ احمدیت۔جلد 25 251 سال 1969ء سیدامیرالدین صاحب قاضی ریٹائر ڈ ڈپٹی کلکٹر دھاروار (وفات: ۲۶ را پریل ۱۹۶۹ء) جماعت احمدیہ وہلی (جنوبی ہند) کے روح رواں تھے۔خلافت احمدیہ سے دلی وابستگی اور بے حد عقیدت رکھتے تھے۔تبلیغ کا شوق جنون کی حد تک تھا۔سلسلہ کے مبلغین کرام اور دیگر احباب سے بہت محبت تھی۔نیک دل ، در ولیش طبع ، نڈر اور سلسلہ کے مالی جہاد میں حصہ لینے والے بزرگ تھے۔دھاروار شہر میں اپنے خرچ پر جلسے کرواتے اور پیغام حق پہنچاتے تھے۔شیخ محمد صدیق صاحب شملوی 101 (وفات: یکم مئی ۱۹۶۹ء) آپ ۱۸۹۴ء میں اپنے آبائی شہر چنیوٹ میں پیدا ہوئے۔اگر چہ آپ پیدائشی احمدی تھے لیکن آپ کو دستی بیعت کا موقع ۱۹۱۰ ء میں ملا۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابی حضرت بابو امیر الدین صاحب شملوی کے صاحبزادے تھے۔دینی تعلیم آپ نے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے پائی۔آپ کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے ہم جماعت ہونے کا شرف حاصل تھا۔بہت مخلص اور خلافت احمدیہ سے دلی وابستگی رکھنے والے فدائی بزرگ تھے۔10 چوہدری محمد حسین صاحب مہار منگوله تحصیل نارووال ضلع سیالکوٹ (وفات: ۴ مئی ۱۹۶۹ء) بڑے مرنجان مرنج بزرگ تھے اور اشاعت احمدیت کے لئے ان کے دل میں ایک خاص جوش تھا۔چنانچہ ان کے خاندان کے بیسیوں افراد کو ان کے ذریعہ احمدیت کی نعمت نصیب ہوئی۔اپنے خاندان کے اکثر یتیم بچوں کی پرورش کر کے ان کی شادیاں بھی کیں۔عرصہ پانچ سال سے سندھ میں مقیم تھے اور جماعت احمد یہ دیہہ گڑھو کے پریذیڈنٹ تھے۔103