تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 14 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 14

تاریخ احمدیت۔جلد 25 14 سال 1969ء ایک نمونہ ہیں۔ایسے قابل قدر وجود خدا کی ایک نعمت ہوتے ہیں۔ارادہ کیا ہے کہ ان ہزاروں صفحات میں سے جو انہوں نے قلمبند کئے ہیں بعض مستقل مضامین شائع کرسکوں۔وباللہ التوفیق خلافت ثانیہ میں خدمات 2۔3 ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو سید نا حضرت خلیفہ امسح الاول کا قادیان میں وصال ہوا۔اُدھر یہ حادثہ ہوا کوسیدنا ادھر شاہجہانپور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت حافظ صاحب پر القاء فرمایا کہ حضرت خلیفہ اول اس دنیا میں موجود نہیں بلکہ اعلیٰ علیین کی طرف رحلت فرما چکے ہیں۔اس پر آپ نے نماز جمعہ پڑھانے کے بعد احباب جماعت کے سامنے کاغذ کے پرچوں کی گڈی رکھی اور تجویز پیش کی کہ اس شخص کا نام لکھیں جس کو آپ کا دل ہر لحاظ سے اس منصب عالی کا اہل اور مستحق قرار دیتا ہوں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سبھی نے ایک ہی نام لکھا اور وہ تھا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد۔اس کے بعد آپ نے بابو محمدعلی خان صاحب شاہجہانپوری کو کاغذ کے یہ پرچے دے کر قام یان بھیج دیا اس طرح بیرونی جماعتوں میں سب سے پہلے جماعت شاہجہانپور کو سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بیعت کا شرف نصیب ہوا۔اس واقعہ کی پوری تفصیل حضرت حافظ صاحب ہی کے قلم سے تاریخ احمدیت جلد پنجم میں گذر چکی ہے۔خلافت ثانیہ کے دوران ہر سال جلسہ سالانہ پر قادیان دارالامان کی برکات سے مستفید ہونا اور ایک عرصہ تک وہاں رہنا آپ کا معمول تھا۔واپسی پر کتابوں کے بنڈل ساتھ ہوتے تھے جن کو آپ زیر تبلیغ اصحاب میں تقسیم کر دیتے۔۱۹۲۲ء کی پہلی مجلس مشاورت میں بیرونی جماعتوں سے جو بزرگ نمائندہ کی حیثیت سے شامل ہوئے ان میں آپ بھی تھے اور مشاورت ۱۹۲۲ء کی مطبوعہ رپورٹ کے آغاز میں آپ کا نام نمبر ۱۲ پر درج ہے۔مشاورت ۱۹۲۹ء میں سب کمیٹی نظارت علیاء کے آپ بھی ممبر نامزد کئے گئے۔۱۹۳۰ء کی مشاورت میں آپ سب کمیٹی بیت المال کے ممبر تھے۔۱۹۲۵ء میں آپ بریلی کے مولوی عبد الغفور صاحب تک پیغام حق پہنچانے کے لئے کئی ماہ تک بریلی میں قیام فرما رہے۔آپ ان دنوں اس درجہ تبلیغ میں منہمک تھے کہ شاہجہانپور تشریف نہ لا سکے یہاں تک کہ شاہجہانپور کی جماعت کے جلسہ سالانہ کا وقت قریب آگیا اور آپ ۱ ستمبر ۱۹۲۵ء کی شام کو واپس تشریف لائے تو دوسرے ہی روز واپسی کے لئے بریلی سے تقاضا شروع ہو گیا۔جس پر آپ انتظام جلسہ کے متعلق ضروری ہدایات دے کر وا پس بریلی چلے گئے اور ۷ استمبر کو جلسہ میں شمولیت کے