تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 13
تاریخ احمدیت۔جلد 25 13 سال 1969ء گاہوں کے طریقہ تعلیم اور نصاب تعلیم وغیرہ امور کو دیکھنے کی غرض سے ایک طویل سفر اختیار فرمایا جس کی تفصیل تاریخ احمدیت جلد چہارم میں گذر چکی ہے۔اس سفر کے دوران آپ اپنے رفقاء کے ساتھ شاہجہانپور بھی تشریف لے گئے اور حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب کے یہاں قیام فرمایا۔چنانچہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے الحکم میں اس مشہور سفر کی روداد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرمایا:۔۱۹ را اپریل کو شام کے چار بجے کے قریب لکھنو ہوتے ہوئے پنجاب میل میں شاہجہانپور روانہ ہوئے۔لکھنوسٹیشن پر مرزا کبیر الدین احمد صاحب اور منشی نذیر الدین صاحب سپلائی ایجنٹ گاڑی کی روانگی تک ہمارے پاس رہے اور ے بجے کے قریب ہم لوگ شاہجہانپور پہنچے۔ریلوے سٹیشن پر کل جماعت موجود تھی جو نہایت محبت اور خلوص سے ملی اور ہم سب کو حافظ مختار احمد صاحب مختار شاہجہانپوری کے مکان پر ٹھہرایا گیا۔ان کی ہی تحریک پر حافظ روشن علی صاحب نے ایک مختصر سی تقریر اسی وقت قبل نماز عشاء فرمائی اور دوسرے روز صبح کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک دل کو ہلا دینے والی تقریر فرمائی۔۱۰ بجے کے قریب ۲۰ / اپریل کو ہم رامپور روانہ ہوئے۔شاہجہانپور ہی میں مولوی سراج الدین صاحب خانپوری جو بریلی میں تجارت چرم کرتے ہیں حضرت صاحبزادہ صاحب کی خبر سن کر آپہنچے اور نہایت اخلاص اور درد آفرین لہجہ میں انہوں نے بعض نعتیں اور حضرت صاحب کی نظم پڑھی۔وہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی تقریر سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے ہیں روپے اس تقریر کی اشاعت کے لئے دینے کا وعدہ کیا اور مجھے دے بھی دیئے۔یہ تقریریں فی الحقیقت عجیب و غریب معارف کا مجموعہ ہیں اور اس قابل ہیں کہ کثرت سے ان کو شائع کیا جاوے۔اللہ تعالیٰ دوسرے احباب کو بھی توفیق دے تو اس کارخیر میں شریک ہوجائیں۔شاہجہانپور کا ذکر نا مکمل ہوگا اگر میں یہ بیان نہ کروں کہ شاہجہانپور کی جماعت نے اخلاص اور محبت سے ہماری مہمانداری کی اور ہر شخص ان میں سے اپنے صدق و وفا کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔حافظ مختار احمد صاحب کے والد ماجد ایک قابل قدر وجود ہیں جو علوم عربیہ کی پوری تحصیل کئے ہوئے ہیں۔ان کا حافظہ ایک بے نظیر حافظہ ہے جو کسی کتاب کو ایک مرتبہ پڑھ کر اس کے مضامین کو اور صفحوں کے صفحوں کو یاد رکھ سکتے ہیں۔عربی زبان میں تحریر کرنے پر قادر ہیں اور اس کے علاوہ آریوں اور دوسرے مذاہب کے اصولوں سے خوب واقف ہیں۔نہایت سادہ زندگی بسر کرتے اور زہد و ریاضت کا