تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 236
تاریخ احمدیت۔جلد 25 236 سال 1969ء دئے۔دونوں بزرگوں نے اسے سینہ کے ساتھ لگا لیا اور دعائیں دیں کہ خدا اسے لمبی عمر دے۔لیکن وہ ۱۹۱۱-۱۲ء میں فوت ہو گیا۔اور اس صدمہ سے والد صاحب کی رہی سہی صحت بھی برباد ہو گئی۔اور پھر اس پر بعض ٹھیکوں میں ایک دم خطر ناک گھاٹوں میں پڑ گئے اور میں ایک نادار طالب علم کی حیثیت سے قادیان میں وارد ہوا۔اس طرح آپ نے دینی ماحول میں تربیت پائی۔خلافت اولیٰ کے ایام میں ۱۹۱۰ء کا جلسہ سالانہ آپ نے دیکھا تھا۔اس وقت سے حضرت مصلح موعود کی محبت آپ کے دل میں گھر کر گئی تھی۔۱۹۱۵ء میں قادیان میں آجانے پر آپ حضور کی نوازشات کے مورد ہونے لگے۔جن کا تسلسل حضور کی طرف سے ہمیشہ جاری رہا۔اور آپ کے لئے دینی ودنیوی برکات کا موجب ہوا۔آپ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ میٹرک کے امتحان کے قریب آپ کی والدہ ماجدہ محترمہ مہتاب بی بی صاحبہ شدید بیمار ہو گئیں۔اُن سے دریافت کیا گیا آیا آپ کے بیٹے کو قادیان سے بلوایا جائے تو انہوں نے منع کر دیا۔اور فرمایا کہ مدرسہ کی تعلیم کا آخری سال ہے۔میں اس کی تعلیم کا حرج کرنا نہیں چاہتی۔کئی بچے فوت ہو چکے تھے اور میاں صاحب ہی واحد اولاد تھے اور طبعا ان سے والدہ ماجدہ کو بے حد پیار تھا۔اس کے باوجود اس دانشمند اور ڈور بین اور صابرہ خاتون نے اپنے جگر گوشہ کی تعلیم کو اپنے جذبات پر ترجیح دی اور آخری ملاقات کے بغیر ہی اس دار فانی سے عالم جاودانی کو سدھار گئیں۔مرحومہ کی تدفین موضع تلونڈی کھجور والی میں ہی ہوئی تھی۔میاں صاحب کو امتحان کے بعد ہی والدہ محترمہ کی وفات کا علم ہوا اور یہ غم آپ کی ساری زندگی پر اثر انداز ہوا۔لیکن ساتھ ہی آپ کو یہ احساس بھی ہو گیا کہ والدہ ماجدہ کی نظر میں حصول علم کیسی اہمیت کا حامل تھا۔میٹرک میں کامیاب ہو کر آپ نے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔انہی ایام میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے احمدی کا جھیئیٹس کے لئے احمد یہ ہوٹل کا انتظام فرمایا تھا۔تا احمدی نوجوان حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم المسلم مرآة المسلم ( کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا آئینہ ہوتا ہے ) کے مطابق ایک دوسرے کی تعلیم و تربیت میں ممد و معاون بن سکیں۔حضور جب بھی لاہور میں تشریف لاتے تو آپ کا قیام از راہ شفقت احمد یہ ہوٹل میں طلباء کے پاس ہوتا۔حضور وہیں نمازیں پڑھاتے ، درس دیتے اور تربیت فرماتے اور کھانا تناول فرماتے۔اس طرح دنیوی تعلیم کے ساتھ ہی طلباء حضور کے ذریعہ روحانی علوم و فیوض سے بہرہ اندوز ہوتے۔ان