تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 235 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 235

تاریخ احمدیت۔جلد 25 وو 235 سال 1969ء مجھے احمدیت جیسی نعمت ورثہ میں بہت ہی سستی ملی۔میں نے مڈل گوجر انوالہ مشن ہائی سکول سے پاس کیا۔والد صاحب مرحوم نے میرے نام اخبار البدر“ جاری کروا رکھا تھا۔اور میں بے خوفی سے بائیبل ٹیچر پر بائیبل کے پیریڈ ( گھنٹی) میں سوالات کی بوچھاڑ کیا کرتا تھا اور عموماًیہ گھنٹی میری بطور سز انچ پر کھڑے گذرتی۔بحیثیت طالب علم میں نالائق نہ تھا لیکن مشن والوں کو میں پسند نہ تھا۔نویں جماعت کی پڑھائی ابھی شروع نہ ہوئی تھی اور کچھ چھٹیاں تھیں۔میں نے ایک مضمون لکھا جو کئی صفحات پر مشتمل تھا۔میں اسے اپنی جیب میں ہی لے کر سکول گیا تو سکول کے ایک عیسائی طالب علم نے جو ہماری جماعت میں ہی پڑھتا تھا لیکن عمر میں باقی طالب علموں سے کافی بڑا تھا۔دراصل بڑا ہوکر اسے منادی بن جانے کا خیال آیا اس لئے مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا۔اُس نے وہ مضمون میری جیب سے اُچک لیا اور وہ چونکہ قد اور جسم میں مجھ سے بڑا تھا میں کچھ نہ کر سکا۔اس نے وہ مضمون پڑھ کر ہیڈ ماسٹر کو جو بنگالی عیسائی تھا دیدیا۔اُس نے مجھے بلایا اور دھمکی دی۔میں نے کہا کہ یہ میرے مذہب کی بات ہے۔اُس نے کہا کہ تم سکول چھوڑ دو۔میرے دل میں قادیان کے سکول میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق پہلے سے تھا۔(اور میرے ہم جماعت طلباء نے بھی اس مدرسہ کو چھوڑ کر قادیان کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ہم سے آپ کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی ) اس طرح یہ واقعہ میرے لئے سبب خیر بنا اور میں ۱۹۱۵ء میں نویں جماعت میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں داخل ہوا۔میرا بھائی بہن کوئی نہ تھا۔میرے والدین چار بھائیوں اور دو بہنوں کا صدمہ دیکھے ہوئے تھے۔جن میں سے دو جواں سال ہو کر فوت ہو گئے تھے، ان میں سے ایک نہایت خوش شکل اور مضبوط جسم بعمر پندرہ سال نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔دوسرے کی عمر بارہ سال تھی لیکن بڑا ہی ذہین تھا۔۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آخری تقریر لاہور میں والد صاحب مرحوم کے ساتھ سنی تھی۔حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد والد صاحب مرحوم نے حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی اور حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی کو غم غلط کرنے کے لئے بلایا ہوا تھا۔ایک دن ہر دو بزرگان حضور علیہ السلام کی آخری تقریر کے متعلق گفتگو فرما رہے تھے تو برادرم مرحوم پاس کھڑا تھا۔کہنے لگا حضور نے یوں نہیں۔یوں فرمایا تھا۔تو مولانا صاحبان نے بچے کی جرات کو دیکھ کر پوچھا کہ حضور نے اور کیا فرمایا تھا۔تو برادرم مرحوم نے حضور علیہ السلام کی ساری تقریر فقروں کے فقرے جو یاد تھے سنا