تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 233 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 233

تاریخ احمدیت۔جلد 25 233 سال 1969ء ۱۹۶۹ء میں وفات پانے والے مخلصین جماعت ۱۹۶۹ء میں دیگر بہت سے بزرگ اور مخلصین جماعت بھی اپنے مولائے حقیقی سے جاملے جن کا اجمالی تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر عبید اللہ صاحب بٹالوی ہومیو پیتھ لاہور (وفات: ۹ جنوری ۱۹۶۹ء) حضرت خلیفہ اول کے دست مبارک پر بیعت کی اور عرصہ تک آپ کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا۔آپ کی زندگی کے تین پہلو بہت نمایاں تھے۔نماز باجماعت۔عشق قرآن اور خدمت خلق۔علمی ذوق بہت بلند تھا اور حلقہ احباب نہایت وسیع۔کئی لوگ آپ کے ذریعہ سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے۔مکرم بشیر الدین احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ نماز با جماعت کا یہ عالم تھا کہ بارش ہو آندھی ہو کچھ بھی ہو۔ڈاکٹر صاحب نماز فجر مسجد میں آکر ادا کرتے۔پیرانہ سالی کا عالم ضعف کی حالت مکان مسجد سے تقریباً ایک میل دور لیکن اس کے باوجود ہر روز بلا ناغہ نماز فجر مسجد میں ادا کرتے۔ضعف کی وجہ سے راستے میں بیٹھ بیٹھ کر آتے لیکن آتے ضرور۔تلاوت قرآن کریم کا شوق ہی نہیں بلکہ انہیں اس سے عشق تھا۔جب تک نظر کام کرتی تھی اپنا زیادہ سے زیادہ وقت تلاوت قرآن کریم میں گزارتے۔جب نظر بہت کمزور ہو گئی تو مسجد میں آنے والے دوستوں سے خواہش کرتے کہ مجھے قرآن کریم سناؤ۔مولوی سید فضل کریم صاحب آف کلکته (وفات: ۱۵ جنوری ۱۹۶۹ء) مدرسہ احمدیہ قادیان کے تعلیم یافتہ تھے۔پُر جوش داعی الی اللہ تھے۔اپنی سائیکل پر سینکڑوں میل کا سفر اختیار کرتے۔قریہ قریہ پیغام حق پہنچاتے تھے۔نہایت غیور اور خلافت کے فدائی اور شیدائی تھے اردو، بنگلہ اور انگریزی زبانوں میں گفتگو کا خاص ملکہ رکھتے تھے۔اپنی تبلیغی گفتگو میں مذہبی دلائل کے اندر عقلی ، سیاسی اور سائنسی چاشنی یوں سمو دیتے تھے کہ لطف دوبالا ہو جا تا اور مخاطب قائل ہوئے بغیر نہ