تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 12
تاریخ احمدیت۔جلد 25 12 سال 1969ء ہوئے فرمایا کہ وہاں انجمن کا انتظام یا قائد و نہ تھا۔چنانچہ اب وہاں انتخاب کروا کر انجمن کے عہدیدار منتخب کرائے گئے ہیں اور حضرت سید مختار احمد صاحب انجمن کے سیکرٹری منتخب ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ شاہجہانپور میں دوسرے احمدی احباب کے اسماء بھی تحریر فرمائے جن میں مثلاً حافظ سید علی میاں صاحب کے بارے فرمایا کہ وہ بڑے صالح اور متقی عالم ہیں۔اس کے علاوہ منشی انوار احمد صاحب۔سید محمد تقی میاں صاحب۔سید محمد قاسم میاں صاحب۔شرافت اللہ خان صاحب۔مرزا ظہور علی بیگ صاحب۔شیخ امام بخش صاحب۔شیخ سخاوت علی صاحب۔شیخ قدرت علی صاحب۔محمد علی خان صاحب اطیع اللہ خان صاحب۔ڈاکٹر اقبال علی خان صاحب غنی۔عبدالعزیز خان صاحب۔اکبر علی خان صاحب سوداگر کوئلہ۔قدرت خان صاحب معمار - کرم علی خان صاحب قرق امین محمد ولی بیگ صاحب وغیرہ شامل ہیں۔اسی ضمن میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے ایک اخبار کے مضمون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں لکھا ہے کہ شاہجہانپور میں کوئی بڑا عالم پیدا نہیں ہوا حالانکہ اس مضمون نگار نے جس نگاہ سے عالم کو تلاش کیا اور نہ پایا اس کے لحاظ سے جو کچھ اس نے لکھا بالکل درست ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے جو بصارت ہم کو عطا کی ہے اس کے ذریعہ ہم نے چند منٹوں میں دو بڑے عالم دیکھے۔جناب مولوی حافظ سید علی میاں صاحب اور ان کے فرزندار جمند جناب مولوی مختار احمد صاحب۔سید محمد میاں صاحب شاہجہانپوری تحریر فرماتے ہیں کہ : حضرت حافظ صاحب کے پاس نادر و نایاب کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ بھی تھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جملہ کتب کے کئی کئی سیٹ شامل تھے۔حضرت صاحب کی کتابوں کے پہلے ایڈیشن کو کلکتہ سے مجدّد کرایا تھا اور بڑے اہتمام سے اور عقیدت سے شیشہ کی الماری میں سجا رکھا تھا۔بقیہ سیٹ گردش میں رہتے تھے۔ان نادر و نایاب کتابوں میں عہد نامہ عتیق اور عہد نامہ جدید کے علاوہ رگ وید ، سام دید، اتھر دید اور بحجر وید کے نسخے بھی موجود تھے۔ایک نسخہ قلمی قرآن کریم کا مشہور ایرانی خطاط کے ہاتھ کا لکھا ہوا بھی موجود تھا۔ان کتابوں سے تبلیغی میدان میں بڑی مدد لیتے تھے۔اتنے بڑے ذخیرے کو ایسی ترتیب سے رکھا ہوا تھا کہ عین وقت پر اپنی مطلوبہ کتاب برآمد کر لینا ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اپریل ۱۹۱۲ء میں ہندوستان کی اسلامی درس