تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 223 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 223

تاریخ احمدیت۔جلد 25 223 سال 1969ء السلام) کے دست شفقت پھیرنے سے اس قدر خوشی و بشاشت ہوئی کہ باوجود ایک معمولی دیہاتی یتیم و بیکس کے بے انداز فخر محسوس کرتا تھا اور اب اس صحبت قدمی کا اثر ہے کہ نیاز مند سلسلہ عالیہ کی ناچیز خدمات بجالا رہا ہے اور اکثر تنہائی میں وہ وقت بلکہ منظر سامنے آتا ہے تو بے اختیار آنسو نکل آتے ہیں۔پیرزادہ صاحب دس سال کی عمر میں قادیان آگئے تھے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے میٹرک پاس کیا اور نیو سکول آف آرٹس سے ڈپلومہ لیا اور ٹائپ وغیرہ سیکھ کر اپنے تئیں سلسلہ احمدیہ کی خدمت کے لئے وقف کر دیا اور ۴۲ سال تک صدر انجمن احمدیہ کے مختلف شعبوں میں قابل قدر خدمات بجالاتے رہے اور آڈیٹر و محاسب صدر انجمن احمدیہ کے عہدہ پر پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔طبیعت میں انکسار، نفاست اور حلیمی پائی جاتی تھی اور تندہی ، محنت اور جفاکشی کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔یتیم اور نادار طلباء کی فیس کی معافی اور مفت کتب مہیا کرنے کا خاص خیال رکھتے تھے اور اپنی ٹائپ مشین پر احباب کی درخواستیں مفت ٹائپ کر دیا کرتے تھے۔شعر و ادب سے بھی خاص لگاؤ تھا۔یاد گار سعید اور انگریزی کا ایک تبلیغی پمفلٹ آپ کی علمی یادگار ہے۔آپ نے اپنے پسماندگان میں تین لڑکے اور دولڑکیاں چھوڑ ہیں۔حضرت چوہدری علی محمد صاحب امیر حلقہ ریتی چھلہ قادیان ولادت تخمیناً ۱۸۹۵ء بیعت : پیدائشی احمدی زیارت : ۱۹۰۵ء وفات : ۱۴ را کتوبر ۱۹۶۹ء آپ کا اصل وطن گوکھو وال ضلع لائل پور تھا۔آپ کے والد ماجد کا نام چوہدری غلام دین صاحب تھا۔چوہدری علی محمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ جب وہ بچپن میں قادیان آئے تو اکثر دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ باہر سیر کو ہم لوگ جایا کرتے تھے۔حضرت اقدس کبھی مشرق کی طرف کبھی شمال کی طرف اور کبھی ریتی چھلہ کی طرف تشریف لے جاتے تھے۔آپ سالہا سال تک حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے مختار عام کی حیثیت سے خدمات بجالاتے رہے۔۱۹۲۴ء کے پہلے تاریخی سفر یورپ میں آپ کو بطور خادم خاص حضور کے ہمراہ جانے کا خصوصی شرف حاصل ہوا۔ہجرت کے بعد چک D۔B39 ضلع سرگودھا میں آباد ہو گئے۔60