تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 222 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 222

تاریخ احمدیت۔جلد 25 222 سال 1969ء۔چوہدری عبدالنور صاحب بی ایس سی ٹیوب ویل ڈیلر گلبرگ لاہور۔۴۔بلقیس بیگم صاحبہ اہلیہ خان بہادر مولوی محمد صاحب ایم اے ایل ایل بی مدراس - ۵- ثریا بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر محمد عمر صاحب (لکھنو )۔۶۔سارہ بیگم صاحبہ مرحومہ ( شادی سے پہلے فوت ہو کر بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون)۔ے۔سلمیٰ بیگم صاحبہ اہلیہ الحاج چوہدری شبیر احمد صاحب (سابق) وکیل المال اول تحریک جدید - ۸- بشری بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری بشارت احمد صاحب ملٹری اکاؤنٹس کراچی۔حضرت پیر زاده رشید احمد صاحب ارشد آف گولیکی ولادت: قریباً ۱۸۹۹ ء بیعت و زیارت : ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء وفات : ۹ را کتوبر ۱۹۶۹ء جناب پیر رشید احمد صاحب ارشد کا شمار آخری صحابہ مسیح موعود علیہ السلام میں ہوتا ہے جیسا کہ آپ خود تحریر فرماتے ہیں۔۲۳ را پریل ۱۹۰۸ء کو میرے والد صاحب (حضرت پیر محمد رمضان صاحب) فوت ہوئے اور میں چھوٹا سا آٹھ نو سالہ یتیم رہ گیا۔ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لا ہور رونق افروز ہوئے اور آخر مئی ۱۹۰۸ء میں برادر محترم قاضی ( ظہور الدین) امل صاحب نے جوحضور علیہ السلام کے ہمراہ تھے ہمیں لاہور بلوا بھیجا۔تا کہ حضور علیہ السلام کی زیارت کی جاسکے۔چنانچہ اخویم قاضی صاحب موصوف کے برادر اصغر جناب اجمل صاحب مجھے گولیکی سے ساتھ لے کر لاہور پہنچے اور غالباً ظہر کی نماز کے وقت میں پہلی مرتبہ حضور کی زیارت سے مشرف ہوا۔جبکہ میں چھت کا پنکھا حضور ( علیہ السلام) پر کرتا رہا۔اس کے بعد عصر کی نماز کا وقت آیا اور اخویم مکرم قاضی المل صاحب نے مجھے حضور علیہ السلام کی خدمت میں بریں الفاظ پیش کیا کہ میرا پھوپھی زاد بھائی ہے اور اس کا باپ فوت ہو گیا ہے۔یتیم کی والدہ کی استدعا ہے کہ حضور اس پر اپنا دست شفقت پھیریں۔اس پر حضور ( علیہ السلام) نے اس عاجز یتیم بچے کی پیٹھ پر ایک دو مرتبہ دستِ مبارک پھیرا اور تین مرتبہ تھپکی دی۔( جیسے شاباش کہنے پر کیا جاتا ہے ) اس کے بعد بیعت ہوئی اور خاکسار بھی دستی بیعت سے مشترف ہوا۔بعد ازاں حضور علیہ السلام ) اندرون خانہ تشریف لے گئے اور ہم دونوں بھائی رات کی گاڑی سے واپس اپنے وطن گولیکی روانہ ہو گئے۔گھر پہنچنے پر غالباً دوسرے یا تیسرے دن یہ سانحہ جانگداز سنا گیا کہ حضور ( علیہ السلام ) کا وصال ہو گیا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔گھر بھر میں کہرام مچ گیا اور سخت صدمہ درج ہوا۔حضور ( علیہ