تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 221
تاریخ احمدیت۔جلد 25 221 سال 1969ء برکت دے۔سنتا ہوں مسیحیوں میں سخت گھبراہٹ ہے اور غیر احمدیوں پر بھی اچھا اثر ہے۔اگر یہ تحریک عقل اور فکر سے جاری رکھی جائے اور جلدی اور لا پرواہی سے کام نہ لیا جائے تو امید ہے بہت مفید ہو۔جاوی لڑکوں کا معاملہ ناظر متعلقہ کے پاس گیا ہے چونکہ مالی حالت سخت کمزور ہے اس لئے ہر کام میں سوچ بچار ضروری ہوگئی ہے۔خاکسار مرزا محمود احمد حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے زمانہ امارت لاہور میں آپ کو جولائی واگست ۱۹۲۶ء میں قائمقام امیر کے فرائض سر انجام دینے کی توفیق ملی۔- جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں حضرت قریشی محمد حسین صاحب مفرح عنبری والے خاص خدمات بجالاتے تھے اور حضرت اقدس کی ضرورت کی چیزیں خرید کر قادیان پہنچایا کرتے تھے اسی طرح خلافت ثانیہ میں ۱۹۲۱ء سے لے کر ۱۹۲۹ ء تک یہ خدمت آپ کے سپر د رہی۔اس دوران خاندان مسیح موعود علیہ السلام کی خواتین مبارکہ کا قیام لاہور عموماً آپ ہی کے مکان پر ہوا کرتا تھا۔نیز دیگر معززین جماعت کی مہمان نوازی بھی اکثر آپ ہی کرتے تھے۔حضرت مصلح موعود نے مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء میں دفاتر صدر انجمن احمدیہ کے لئے سات ممبروں پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیشن مقررفرمایا جس کے صدر حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب تھے آپ کو بھی حضور نے اس کا ممبر نامزدفرمایا۔یہ اہم کام آپ تقسیم برصغیر تک برابر سرانجام دیتے رہے۔اکتوبر ۱۹۴۰ء میں حضرت مصلح موعود نے آپ کو صدر انجمن احمد یہ قادیان کی تمام نظارتوں، دفتر محاسب اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے لئے آنریری آڈیٹر مقرر فرمایا۔یہ خدمت بھی آپ نہایت اخلاص اور ذوق وشوق سے بجالاتے رہے بلکہ ایک عرصہ تک آپ نے لاہور سے قادیان تک کا کرایہ آمد و رفت بھی وصول نہیں کیا۔آپ کی زندگی کا آخری کارنامہ یہ ہے کہ پیرانہ سالی کے باوجود آپ نے خطبات نور کو نہایت اہتمام سے دوبارہ مرتب فرمایا اور ان میں اضافہ کر کے ان کی پہلی جلد دسمبر ۱۹۶۸ء میں اور دوسری مارچ ۱۹۶۹ء میں شائع کرا دیں۔اولاد :۔۱۔چوہدری عبدالمجید صاحب کارکن دفتر محاسب صدر انجمن احمد یہ ربوہ۔۲۔چوہدری عبدالباری صاحب بی اے سابق نائب ناظر بیت المال ہومیو پیتھک ڈاکٹر مدینہ کالونی لاہور۔54