تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 219 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 219

تاریخ احمدیت۔جلد 25 219 سال 1969ء اول نومبر ۱۹۱۲ء) اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈائری ۱۹۰۱ء کی شائع کی۔خطبات نور حصہ اوّل کے عرض حال میں آپ نے تحریر فرمایا۔” جب سے میری تبد یلی پٹیالہ سے لا ہور ہوئی مجھے بفضل خدا حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں حاضر ہونے کا زیادہ موقعہ مل گیا۔جب کبھی قادیان جانے کا ارادہ کرتا تو یہ خیال آتا کہ حضرت صاحب کے لئے ایسی کیا چیز بطور نذرانہ لے جائی جاوے جو حضور کی خوشی کا باعث ہو۔خورد و نوش تو حضور کی اصل خوشی کا موجب نہیں اور ہر گز نہیں کیونکہ اگر حضور کو یہ چیزیں مرغوب ہوتیں تو اپنا گھر بار چھوڑ کر ایک گاؤں میں کیوں سکونت اختیار فرماتے۔اس لئے میں نے اپنی سمجھ کے مطابق ان خطبات کو ہی بہتر نذرا نہ سمجھا۔اس تحریک کے ساتھ میں نے خطبات کو جمع کرنا اور ترتیب دینا شروع کر دیا۔ایک مرتبہ جب میں حاضر خدمت ہوا تو میں نے مسودہ جو بدر اور الحکم میں سے کاٹ کر علیحدہ کر لیا ہوا تھا حضور کے پیش کیا۔حضور دیکھ کر بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا کہ میرے تو وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ کوئی ان کو جمع کرے گا۔بڑی محنت کی ہے جیسی آپ نے ان سے محبت کی ہے خدا آپ سے محبت کرے۔حضرت صاحب کے اس اظہار مسرت کو دیکھ کر میری خوشی کی تو کوئی انتہا نہ رہی خدا کا شکر ہے کہ میری محنت قبول ہوئی۔حضور نے اس پہلے حصہ کا پروف ملاحظہ فرمالیا ہے اور حضور ہی نے اس کا نام خطبات نور تجویز فرمایا ہے۔حضرت خلیفہ مسیح الاول نے اپنے قلم مبارک سے یہ اجازت نامہ لکھا۔بابو عبدالحمید صاحب نے میری اجازت سے اور مجھے مسودات دکھانے کے بعد میرے خطبات کو کتابی صورت میں شائع کرنے کا انتظام کیا۔اللہ تعالیٰ اس اخلاص کے واسطے انہیں جزائے خیر دے اور ان کے کام کو با برکت کرے۔نورالدین۔۲۰ جون ۱۹۱۲ء حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر اخبار ”بدر نے خطبات نور پر حسب ذیل تبصرہ سپرد قلم فرمایا:۔اسی نور کے منور کلام کو ہمارے پیارے دوست بابو عبدالحمید صاحب سیالکوٹی نے الحکم و بدر کے کالموں سے نقل کر کے اور حضرت صاحب کو دکھا کر اور ان کی اجازت حاصل کر کے چھپوانا شروع کیا ہے۔کاغذ اعلیٰ لکھائی خوشخط، چھپائی عمدہ ہر لازمی احتیاط کے ساتھ بابو صاحب نے اس کام کو شروع کیا ہے۔