تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 212 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 212

تاریخ احمدیت۔جلد 25 212 سال 1969ء جانب بیٹھے ہوئے ہیں وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔یہ نظارہ دیکھنے کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔میں اللہ تعالی کا شکر بجالایا کہ اس نے محض اپنے فضل سے مجھے بذریعہ رویا حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت نصیب کی۔یہ رویا دیکھنے کے بعد میرے دل میں قادیان جانے اور حضور علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل کرنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔آخر میری امید بر آئی اور ۱۹۰۳ء میں محترم با بوفخر الدین صاحب مرحوم ( والد بزرگوار محترم مولوی محمد یعقوب صاحب فاضل مرحوم اور محترم حکیم محمد صدیق صاحب ساکن گھوگھیاٹ میانی ضلع سرگودھا کے ہمراہ قادیان روانہ ہوا۔جب ہم بٹالہ کے اسٹیشن پر پہنچے تو وہاں ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مولوی کرم دین بھیں کے مقدمہ کے سلسلہ میں گورداسپور تشریف لے گئے ہوئے ہیں۔چنانچہ ہم تینوں بٹالہ سے سیدھے گورداسپور پہنچے۔وہاں حضور علیہ السلام ایک مکان کے بالا خانہ پر فروکش تھے۔ہم نے اوپر اطلاع بھجوائی اور ملاقات کے لئے حاضر خدمت ہونے کی اجازت چاہی۔حضور علیہ السلام نے از راہ شفقت و ذرہ نوازی اجازت مرحمت فرمائی۔چنانچہ ہم تینوں بالا خانہ میں پہنچ کر حضور علیہ السلام کی زیارت سے شرف یاب ہوئے اور مصافحہ کا شرف بھی حاصل کیا۔اس وقت حضور علیہ السلام کے پاس حضرت خلیفۃ اسبح الاول ، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور ایک اور بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔خاکسار کو اور حکیم محمد صدیق صاحب کو حضور علیہ السلام نے از راہ شفقت پیار بھی کیا۔کیونکہ ہم دونوں بچے ہی تھے۔اس وقت میری عمر بارہ تیرہ سال کے قریب تھی۔کچھ دیر کے بعد حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ آپ لوگ نیچے جا کر کھانا کھا لیں۔ہم نیچے کے مکان میں گئے اور کھانا کھانے بیٹھے۔دیکھا کہ پلاؤ پکا ہوا ہے۔میں نے پلاؤ کا پہلا لقمہ ہی مونہہ میں ڈالا تھا کہ یک دم مجھے اپنا ایک پرانا خواب یاد آ گیا۔کچھ عرصہ پہلے میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں ایک بالا خانہ پر گیا ہوں۔وہاں چار بزرگ تشریف فرما ہیں۔ان میں سے ایک بزرگ سے جو باقی بزرگوں کی نسبت بڑے ہیں، میں نے مصافحہ کیا ہے اور انہوں نے پیار کرنے کے بعد کھانا کھانے کیلئے ارشاد فرمایا ہے اور خواب میں ہی میں نے پلاؤ بھی کھایا ہے۔لقمہ مونہہ میں ڈالتے ہی اس خواب کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔اس وقت مجھے بے انتہاء خوشی محسوس ہوئی اس خوشی کے عالم میں میں نے محترم با بوفخر الدین صاحب مرحوم کو جو میرے ساتھ ہی بیٹھے پلاؤ کھارہے تھے اپنا یہ خواب