تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 211
تاریخ احمدیت۔جلد 25 211 سال 1969ء (اصل نوٹ میں حافظ عطاء الحق صاحب کا نام درویش قادیان کی حیثیت سے درج ہوا ہے جو کہ سہو ہے۔) اولاد: مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب ربوہ۔حافظ عطاءالحق صاحب ربوہ۔مولوی سراج الحق صاحب در ویش قادیان - محمد اسحاق صاحب کراچی حضرت ملک نبی محمد صاحب میانی گھوگھیاٹ بھیرہ ولادت: ۱۸۸۵ء تحریری بیعت ۱۹۰۱ء زیارت:۱۹۰۳ء وفات: ۷/اگست ۱۹۶۹ء حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کو آپ سے بہت محبت تھی اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ ہمارے وطن میانی بھیرہ کے ہیں۔لمبے عرصہ تک جماعت گھوگھیاٹ کے پریذیڈنٹ ،سیکرٹری مال اور زعیم انصار اللہ رہے۔تحریک جدید کی پانچ ہزاری روحانی فوج میں شامل تھے۔سلسلہ احمدیہ کا لٹریچر نہایت ذوق وشوق سے محفوظ رکھتے تھے۔خلیفہ وقت کی خدمت میں ہفتہ میں ایک بار خط لکھنا ان کا معمول تھا۔بلند اخلاق، منکسر المزاج، شب بیدار اور صاحب رو یا بزرگ تھے۔آپ کو قبل از وقت جناب الہی کی طرف سے بشارت دی گئی کہ آپ کی عمر ۷۵ یا ۸۵ سال ہوگی۔آپ نے اپنے بعد خدا کے فضل سے ایک بڑا احمدی کنبہ چھوڑا۔ملک محمد بشیر صاحب انسپکٹر انصار اللہ مرکز یہ ربوہ آپ ہی کے صاحبزادے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: حضور علیہ السلام کی بیعت تو میں نے ۱۹۰۱ء میں خط کے ذریعہ کر لی تھی۔لیکن حضور علیہ السلام کی زیارت کا شرف ۱۹۰۳ء میں نصیب ہوا اور وہ بھی ایک خواب کی بناء پر۔بذریعہ خط بیعت کرنے کے کچھ عرصہ بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا چبوترہ ہے۔اس چبوترہ کے گرد بہت سے لوگ ایک دائرہ کی شکل میں جمع ہیں اور مؤدب کھڑے ہوئے ہیں۔ان لوگوں میں میں بھی شامل ہوں چبوترے کے اوپر چاندی کی دو خوشنما کرسیوں پر دو بزرگ ہستیاں تشریف فرما ہیں۔دونوں بزرگ جوان اور خوش شکل ہیں۔ان کے چہروں سے سفید نور کی شعائیں نکل کر آسمان کی طرف جارہی ہیں۔اور اسی طرح ان کی کرسیوں میں سے نور کی شعاعیں پھوٹ رہی ہیں۔اور آسمان کی طرف بلند ہو رہی ہیں۔دونوں بزرگ قریبا ہم شکل نظر آتے ہیں۔البتہ یہ احساس ہے کہ ان میں سے ایک آتا ہے اور دوسرا غلام۔میرے قریب ہی ایک بزرگ کھڑے ہیں وہ انگلی کے اشارہ سے بتاتے ہیں کہ جو بزرگ دائیں جانب تشریف فرما ہیں۔وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور جو بزرگ بائیں