تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 10
تاریخ احمدیت۔جلد 25 10 سال 1969ء دست مبارک پر بیعت کر لی۔جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا میں آپ کی چار پائی کے قریب بیٹھا تھا۔مجھے کہنے لگے ، مجھے کیا اور لوگوں پر قیاس کرتے ہو؟ میں اپنی موت سے مطمئن ہوں۔آپ نے يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر: ۲۸، ۲۹) کے مطابق بخوشی اپنی جان خدا تعالیٰ کو سونپی۔بیعت کر لینے کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام کی کتابوں کے پڑھنے میں مجھے بہت لذت آتی تھی۔میں حضور کی کتابوں کو اسی لذت میں بار بار پڑھتا حتی کہ صفحات کے صفحات مجھے زبانی یاد ہو گئے۔میرے سامنے کوئی شخص آپ کی عبارت میں سے ایک لفظ بھی آگے پیچھے کرے میں سمجھ جاتا ہوں کہ اس نے غلطی کی ہے۔نہ صرف یہ کہ کتابوں کو میں نے خود بار ہا پڑھا بلکہ دوسروں کو یہ کتا بیں بکثرت پڑھ کر سنا ئیں اور شروع سے آخر تک میرے ذہن کی ساخت ایسی ہو چکی ہے کہ بجز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے خیالات کے اور کوئی خیال نہیں آتا۔کوئی بات میرے ذہن میں ایسی آہی نہیں سکتی جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم نہ ہو۔اب بھی باوجود پیرانہ سالی کے میری یادداشت کا یہ حال ہے کہ شاید اب مجھے کسی کتاب کا صفحہ یاد نہ رہا ہومگر کتاب کا نام مجھے ضرور یاد آ جاتا ہے اور کتاب سامنے آتے ہی فور أحوالہ دکھا دیتا ہوں۔جو کوئی بھی کسی حوالہ کے لئے میرے پاس آتا ہے کبھی خالی ہاتھ نہیں جاتا۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہی فضل و کرم ہے کہ وہ مجھ سے اس پیرانہ سالی میں یہ کام لے رہا ہے۔یہ خوب یا درکھو کہ سلسلہ پر کوئی بھی اعتراض سنو اس کا جواب حضرت اقدس علیہ السلام کی کتابوں میں ضرور موجود ہوتا ہے۔شادی جناب پیام شاہجہانپوری اپنے والد محمد امین صاحب شاہجہانپوری کے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت حافظ مختار احمد صاحب نے سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق شادی کی تھی جس خاتون سے ان کی شادی ہوئی تھی وہ محترم سید محمد میاں صاحب سلیم شاہجہانپوری کی بیوہ والدہ تھیں۔حضرت حافظ صاحب کا نکاح ان کے بہت ہی عزیز دوست منشی سراج الدین صاحب کا نپوری نے پڑھایا تھا۔حافظ صاحب نے دعوتِ ولیمہ کا اہتمام بھی کیا تھا۔حافظ صاحب تین تین چار چار آدمیوں کو بلا لیا کرتے تھے اور انہیں ولیمے کا کھانا کھلایا کرتے تھے۔خود محمد امین صاحب شاہجہانپوری نے بھی ان کی دعوت ولیمہ میں شرکت کی تھی۔19۔