تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 204
تاریخ احمدیت۔جلد 25 204 سال 1969ء جامع مسجد کا امام و مدرس اول مفتی شہر مولوی احمد حسن معاند احمدیت سلسلہ کا سخت مخالف تھا لیکن مقابلہ سے ہمیشہ بھاگتا تھا۔اس نے عید گاہ میں مجمع عام کے سامنے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے کہ وہ دجال اکبر ہے۔میں مرزا کو دجال کہتا ہوں اور میں مباہلہ کرتا ہوں۔یہ خبر والد صاحب مرحوم مغفور نے حضور انور کو بھیج دی۔حضرت اقدس نے دافع البلاء میں اسے خاص طور پر مخاطب کر کے تحریر فرمایا کہ مولوی احمد حسن امروہی کو بھی میرے مقابلہ کا اچھا موقع مل گیا ہے وہ بھی اپنے فرضی مسیح کی خاطر جس کو وہ مع جسم خاکی آسمان پر مانتا ہے،خدا سے منوالے کہ امروہہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور قادیان ہلاک ہو جائے گا۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو دافع البلاء صفحہ ۱۵-۲۲۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸ صفحه ۲۳۴ تا ۲۳۸) جب امروہہ میں طاعون پڑی تو مولوی احمد حسن کے یہاں تین موتیں ایک ہی دن میں واقع ہوئیں۔ایک ان کا نواسہ ایک نواسی اور ایک ان کی بیوی طاعون سے مریں۔جن کے لئے وہ زار زار روتے تھے۔اس کے بعد تیسرے سال وہ خود بھی طاعون سے ہلاک ہو گیا۔جس پر احقر نے ایک اشتہار بعنوان "اللہ اکبر - نشان عظیم الشان“ شائع کیا جس میں حضرت صاحب کی ” دافع البلاء والی عبارت نقل کی تھی۔اور ساتھ ہی مولوی احمد حسن کے واقعہ کا بھی مفصل ذکر کر دیا کہ مولوی احمد حسن نے گو دافع البلاء کا جواب نہیں دیا مگر پھر بھی حضور کی پیشگوئی پوری ہوئی اور حضور کے اعلان کے بعد خاص امروہہ میں ساڑھے تین ہزار اشخاص طاعون سے ہلاک ہوئے اور مخالف مولوی احمد حسن بھی اس کا شکار ہو گیا۔۔۔۔والد صاحب مرحوم نے ایک مرتبہ حضور کی خدمت میں تحریری عرض کیا کہ امروہہ میں مخالفت بہت ہے۔مگر مکمترین تمام شہر میں پھر کر تبلیغ کرتارہتا ہے۔لوگ دیوانہ کہتے ہیں۔حضور دعا فرمائیں کہ یہ کمترین احمدیت کا دیوانہ ہی رہے۔حضور نے جواباً تحریر فرمایا کہ ہمیں بھی ایسے ہی دیوانوں کی ضرورت ہے۔ایک مرتبہ آپ (والد صاحب) اپنی دکان پر بیٹھے ہوئے تھے کہ یکا یک آپ کو خیال آیا کہ میں محلہ قریشی میں جاؤں۔وہاں ایک حکیم عبد السلام صاحب رئیس رہتے تھے۔ان کے پاس آپ گئے وہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ میں آپ کو بلانے ہی کو تھا۔اچھا ہوا کہ آپ خود تشریف لے آئے اور اندر کمرے میں لے گئے اور علیحدہ بٹھا کر کہنے لگے کہ ایک بات جو بہت اہم ہے آپ کو بتلانا چاہتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ آپ کے متعلق عمائدین شہر نے ایک مشورہ کیا ہے کہ یہ شخص ایک معمولی آدمی ہے