تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 205 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 205

تاریخ احمدیت۔جلد 25 205 سال 1969ء اس کو کہیں علیحدہ مکان میں بلوا کر قتل کردو ردو۔میرے والد صاحب نے بڑی بے پرواہی سے کہا کہ حکیم صاحب! آپ کی محبت کا شکریہ۔مگر یہ احقر اسی لئے دنیا میں آیا ہے کہ خدا کی راہ میں کام آئے۔حکیم صاحب بہت تعجب سے ان کی طرف دیکھنے لگے اور کہنے لگے کہ عجیب قسم کا انسان ہے کہ جسے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں۔آپ وہاں سے واپس چلے آئے۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب دوسری ( یه ۲۳ راکتو بر ۱۹۰۵ء کا واقعہ تفصیل تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۴۳۶ - ۴۴۱ میں گذر چکی ہے ) مرتبہ دہلی تشریف لائے تو ہم لوگ بھی امروہہ سے چل کر حضور کی خدمت میں دہلی حاضر ہوئے۔حضور الف خاں سیاہی والے کے مکان میں فروکش ہوئے تھے۔جس وقت ہم وہاں پہنچے تو حضور اندر کے دروازہ کے قریب تشریف فرما تھے جا کر سلام علیکم عرض کی اور دست مبارک کو بوسہ دیا اور حضور نے وعلیکم السلام فرماتے ہوئے فرمایا کہ بڑا افسوس ہے کہ آپ کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔خدا غریق رحمت کرے اس وقت پیر سراج الحق صاحب نعمانی بھی موجود تھے انہوں نے عرض کیا کہ حضور یہ مولوی الہی بخش صاحب کے لڑکے ہیں۔حضور نے فرمایا میں خوب جانتا ہوں۔چند روز حضور وہاں تشریف فرما ر ہے اس کے بعد وا پس قادیان تشریف لانے کے لئے جب دہلی کے اسٹیشن پر پہنچے (۴ نومبر ۱۹۰۵ء) تو گاڑی سے اتر کر آپ نے حضرت اماں جان کو اتارا اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اندر پلیٹ فارم پر تشریف لے گئے جس پر بعض مخالفوں نے اعتراض کیا اور مضحکہ خیز باتیں کرنی شروع کیں۔اس پر حضرت اقدس سے عرض کیا گیا مگر حضور نے اس قسم کی باتوں کی طرف مطلق توجہ نہیں فرمائی اور کوئی پرواہ نہ کی۔اس کے بعد حضور قادیان تشریف لے گئے اور میں غازی آباد کے اسٹیشن پر اتر کر حضور سے مصافحہ کیا اور امروہہ جانے کی اجازت حاصل کی۔حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آپ امروہہ جائیں گے۔اچھا جائے۔اللہ حافظ۔21- ۳- کمترین جب کبھی حضور کی خدمت میں امروہہ سے حاضر ہوتا تو صورت دیکھ کر ہاتھ مصافحہ کے لئے بڑھاتے اور مسکراتے۔کمترین کے حضور کا ہاتھ چومنے پر حضور کے چہرہ مبارک پر بڑی بشاشت ظاہر ہوتی اور فرماتے۔آگئے۔اچھے رہے۔پھر اس کے بعد اگر حضور قیام فرماتے یا بیٹھ جاتے تو برابر بلا کسی بڑے چھوٹے بزرگوں کے ادب ملحوظ رکھتے ہوئے حضور کے قدموں میں بیٹھ جاتا اور