تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 201 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 201

تاریخ احمدیت۔جلد 25 201 سال 1969ء اپنی کا پی پر محاورے نوٹ کرتیں اور گھر میں بتا تیں۔محترمه فیروزہ فائزہ صاحب تحریر فرماتی ہیں کہ میرے ابا محترم جنید ہاشمی صاحب نے اپنا ایک واقعہ بتایا کہ غالبا ۱۹۲۲ء میں ہم موسم گرما کی تعطیلات میں گولیکی جارہے تھے۔لالہ موسیٰ کے سٹیشن پر جب گاڑی ٹھہری تو ایک اور گاڑی کے کراسنگ کی وجہ سے پلیٹ فارم پر لوگ ادھر ادھر ٹہل رہے تھے۔اتنے میں شور اٹھا کہ بی اماں ( یعنی تحریک خلافت کے لیڈر مولانا محمد علی جو ہر اور مولانا شوکت علی کی والدہ محترمہ ) ویٹنگ روم کے باہر ایک کرسی پر بیٹھی ہیں۔اس زمانہ میں یہ شعر بچے بچے کی زبان پر تھا تو بولی اماں محمد علی کی بیٹا جان خلافت په دیدو چنانچہ ہم نے ( یعنی خاکسار شبلی اور صفیہ سلطانہ بیوہ ڈاکٹر کیپٹن محمد حسین شاہ ) نے والدہ مرحومہ کا دامن کھینچا کہ چلو۔ہم بھی بی اماں کو دیکھیں۔پہلے تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ وہ سیاسی عورت ہے ہم مذہبی لوگ ہیں تا ہم ہمارے اصرار پر ویٹنگ روم کی طرف چل پڑیں۔اتنے میں کسی نے تعارف کرا دیا کہ یہ استانی ہیں اور مضمون نگار بھی ہیں۔بی اماں بہت خوش ہوئیں۔اور خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔پھر حسب معمول تحریک خلافت پر ایک تقریری کرنے کے بعد والدہ مرحومہ سے کہنے لگیں کہ آپ استانی ہیں، ادیب ہیں۔آپ دیہات میں ہمارا پیغام پھیلائیں اور خواتین کی بیداری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔والدہ نے فوراً کہا آپ تو سیاسی اغراض کے ماتحت کام کر رہی ہیں۔ہمارا مقصد اس سے بہت بلند ہے۔ہمیں اسلامی معاشرہ قائم کرنا ہے۔میں نے قرآن وحدیث کا پہلے خود مطالعہ کیا ہے۔اب لڑکیوں کے سکول کھول کر اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کی تربیت کر رہی ہوں۔اور پھر اس کے لئے ہمیں کوئی لالچ نہیں۔محض دین کی خدمت پیش نظر ہے۔باقی رہی خلافت تو اپنے بیٹے ذوالفقار علی ( مراد حضرت ذوالفقار علی گوہر صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) سے پوچھنا۔وہ ہم قائم کر چکے ہیں۔دنیوی خلافتوں کا دور ختم ہو چکا۔اب اسے بحال نہیں کیا جاسکتا۔جب والدہ ذرا جوش میں آئیں تو بی اماں نے اپنا سوٹ کیس سنبھالا اور جلدی سے بولیں چلو بھئی چلو۔گاڑی آنے والی ہے۔لیکن والدہ نے ان کا تعاقب کیا اور کہا مجھ سے لکھوالو خواہ آپ کا بیٹا محمد علی کتنا لائق ہے وہ خلافت بحال نہیں کر سکے گا۔خدائی خلافت قائم ہو چکی اب اسی سے دنیا کی نجات وابستہ ہے۔لوگوں کا ہجوم تعجب سے ہمیں دیکھتارہا اور بی اماں کی گاڑی امرتسر کی طرف روانہ ہوگئی۔