تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 197
تاریخ احمدیت۔جلد 25 197 سال 1969ء مرزا نعمت اللہ صاحب، مرزا عطاء اللہ صاحب، مرزا عنایت اللہ صاحب، مرزا حبیب اللہ صاحب، سلیمہ بیگم صاحبہ، خورشید بیگم صاحبہ، مجیدہ بیگم صاحبہ، سعیدہ بیگم صاحبہ، بشری بیگم صاحبہ حضرت بھائی شیر محمد صاحب قریشی ( جہلمی ) آف نیروبی بیعت : ۱۹۰۳ء وفات : اپریل ۱۹۶۹ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو صحابہ نیروبی تشریف لے گئے ان میں سے ایک یاد گار آپ بھی تھے۔آپ اور آپ کے بڑے بھائی حضرت میاں دوست محمد صاحب نیروبی کے اولین آبادکاروں میں سے تھے اور ان کی دکان انڈین بازار میں” دوست محمد برادرز کے نام سے مشہور تھی۔اپنی خاندانی روایات کے مطابق آپ نے مشرقی افریقہ کی سب احمد یہ مساجد اور دیگر دینی کاموں میں مقدور بھر حصہ لیا۔ایام مخالفت میں بڑی دلیری اور غیرت کے ساتھ زندگی بسر کی اور ابتلا کی گھڑیوں میں ہمیشہ نظام سلسلہ سے وابستہ رہے۔محترم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ نے اپنی کتاب ” کیفیات زندگی میں کئی جگہ پر حضرت بھائی شیر محمد صاحب کا ذکر خیر کیا ہے۔ایک موقع پر آپ اور آپ کے دوسرے بھائیوں کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ یہ جہلم کے رہنے والے تھے اور ٹیلرنگ کا کام کرتے تھے اور اس کے ساتھ آپ کے بھائی حضرت دوست محمد صاحب کی شخصیت اور قبول احمدیت کے واقعہ کے بارہ میں تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: محترم بھائی دوست محمد صاحب بزرگ صورت اور سیرت نظر آئے۔تخت پوش پر بیٹھے ہوئے ٹیلرنگ کے کام میں مصروف ان کے ساتھ ان کے دو بھائی بھی کام کرتے تھے مکرم بھائی شیر محمد صاحب اور مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب۔ان کی دکان ٹیلرنگ کی تھی۔یہ جہلم کے رہنے والے تھے۔بھائی دوست محمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ملنے جلنے والوں میں عزت واحترام سے دیکھے جاتے۔پنجاب کے آباد کار بالعموم اور جہلم گجرات وغیرہ کے لوگ جو نیروبی میں مختلف پیشوں اور کاموں میں مصروف تھے ان کا ان سے ملنا جلنا تھا۔اکثر ان کی دوکان پر یہ لوگ آتے اور ان سے ملنے میں ایک سکون محسوس کرتے۔بھائی دوست محمد صاحب کے متعلق تاریخی نکتہ نگاہ سے یہ لکھ دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے احمدیت کیسے قبول کی چنانچہ ایک دفعہ خاکسار نے ان سے دریافت کیا کہ وہ احمدی کس طرح ہوئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی سعادت کس