تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 180
تاریخ احمدیت۔جلد 25 180 سال 1969ء قائم کر کے دکھا ئیں۔ہم نے ربوہ میں کسی حد تک اس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے چنانچہ ہم نے ربوہ کے ۴۴۳ خاندانوں کو سستی گندم اور نقدی کی صورت میں امسال مدد دی ہے۔احمدی کارخانہ داروں اور زمینداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے مزدوروں اور مزار عین کی اجرت اور ان کے حقوق اسلامی اصولوں کے مطابق ادا کریں۔حضور نے اس سلسلے میں ایک کمیٹی کے تقرر کا بھی اعلان فرمایا جو احمدی کارخانہ داروں اور زمینداروں کے حالات اور دیگر امور پر غور کر کے ایسی معین تجاویز مرتب کرے گی جن سے اسلامی اصولوں کے مطابق غرباء کے حقوق کی ادائیگی کا انتظام ہو سکے۔حقیقت محمد به برایمان افروز یکچر سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے جلسہ کے آخری اجلاس میں حقیقت محمدیہ کے موضوع پر وجد آفریں خطاب فرمایا جو قرآنی علوم و معارف اور حقائق و دقائق کے ایک بحر بیکراں کی حیثیت رکھتا ہے۔حضور نے سورہ نجم (آیت ۴ تا ۱۱) کی نہایت لطیف تفسیر بیان کرتے ہوئے نہایت مسحور کن اور عارفانہ انداز میں واضح فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود مقصود کائنات ہے یعنی وجہ تخلیق کائنات صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات بابرکات ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو پیدا کرنا منشائے الہی نہ ہوتا اور اللہ رب العالمین آپ کو پیدا کرنے کا منصوبہ نہ بناتا تو یہ عالمین ہی معرض وجود میں نہ آتا۔اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ کو عالم قضا و قدر میں مرکزی نقطہ کے طور پر پیدا کیا اور پھر اس کے گرد عالمین کو بنایا۔یہ حقیقت ایک رنگ میں گزشتہ انبیاء پر بھی ظاہر کی گئی تھی اور انہیں بتایا گیا تھا کہ انہوں نے جو بھی فیضانِ الہی پایا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے پایا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جملہ انبیاء ماسبق میں سے ہر نبی اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا مظہر تھا مگر اللہ کا مظہر نہ تھا۔جملہ انبیاء میں سے یہ مقام صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔آپ اللہ تعالیٰ کی کسی ایک یا چند صفات کے نہیں بلکہ ان تمام تشبیہی صفات اور ان کے جلووں کے مظہر اتم ہیں جن کا تعلق اس عالمین سے ہے۔حضور نے مزید واضح فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اوپر کی جانب قوس الوہیت یا قوس اعلیٰ اور نیچے کی طرف قوس اسفل یا قوس دنیا کے درمیان ان دونوں قوسوں کے مشتر کہ وتر کے طور پر ہے۔حقیقت محمدیہ وہ وتر نہیں بلکہ اس وتر کا مرکزی نقطہ ہے۔یہ وتر مرکزی نقطہ سے دائیں