تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 181 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 181

تاریخ احمدیت۔جلد 25 181 سال 1969ء جانب اور بائیں جانب صفات الہیہ یا بالفاظ دیگر انبیاء وصلحاء کے بیشمار نقاط پر مشتمل ہے۔دائیں جانب گذشتہ انبیاء ہیں اور بائیں جانب بعد میں آنے والے امتِ مسلمہ کے برگزیدہ وجود۔ان کے درمیان یا عین وسط میں حقیقت محمدیہ مرکزی نقطہ کے طور پر ہے۔حقیقت محمدیہ کی چار حرکتیں ہیں۔ایک حرکت اوپر کی طرف یعنی قوس الوہیت کی طرف ہے۔دوسری اور تیسری حرکت خود و تر پر دائیں اور بائیں جانب ہے اور چوتھی حرکت نیچے کی طرف یعنی دنیا کی قوس کی جانب ہے۔یہ مرکزی نقطہ (بالفاظ دیگر حقیقت محمدیہ علی ) بحر الوہیت میں غوطہ زن ہو کر اوپر کی طرف بلند ہونا شروع ہوا بلند ہوتے ہوتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے بلند سے بلند تر مقام پر پہنچے کہ وہاں سے خدا نے محبت و شفقت اور پیار کے رنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور آپ کو عرش پر بٹھا لیا۔اس طرح سب سے اعلیٰ سب سے ارفع اور سب سے افضل آپ کا وجود بن گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی عالمین سے تعلق رکھنے والی جملہ صفات الہیہ کے مظہر اتم قرار پائے۔دوسری اور تیسری حرکت اس مرکزی نقطے یا حقیقت محمدیہ کی وتر پر دائیں اور بائیں جانب ہے۔دائیں طرف حرکت انبیاء ماسبق کی طرف ہے اور بائیں طرف حرکت بعد میں آنے والوں کی طرف۔سو گویا آپ کی روحانی تاثیر سارے وتر میں پھیلی ہوئی ہے۔اولین کو بھی فیضانِ الہی آپ ہی کی وساطت سے ملا اور آخرین کو بھی تا قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی وساطت سے الہی فیضان ملتا چلا جائے گا۔اسی لئے آپ کا وجود عالم موجودات پر ازل سے مؤثر ہے اور تا قیامت مؤثر رہے گا۔مرکزی نقطے یا حقیقت محمدیہ کی چوتھی حرکت نیچے کی طرف یعنی دنیا اور اس کی مخلوق کی طرف ہے۔یہاں بھی آپ کی شان بہت ہی بلند اور ارفع و اعلیٰ نظر آتی ہے۔دوسرے انبیاء بنی نوع انسان کے ایسے ہمدرد اور رستگار نہ تھے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ بنی نوع انسان کی ہمدردی میں اسفل السافلین تک پہنچے اور جو شخص اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں گرتے گرتے وہاں پہنچا ہوا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ پکڑ کر اسے بھی وہاں سے نکال لائے۔اس انتہائی ارفع و اعلیٰ مقام میں کوئی بھی آپ کا شریک نہیں۔اسی کا نام حقیقت محمدیہ ہے اور یہی ختم نبوت کی حقیقت ہے۔دیگر فاضل مقررین اس یادگار اور نہایت بابرکت جلسہ پر جن نامور علماء اور بزرگوں نے اہم علمی، دینی اور تربیتی موضوعات پر فاضلانہ اور پُر مغز لیکچر دیے، ان کے نام یہ ہیں۔