تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 177
تاریخ احمدیت۔جلد 25 177 سال 1969ء بہت وزن اس کا دیا گیا تھا۔(۵) پانچواں وہ نہایت خطرناک موقعہ تھا جبکہ خسرو پرویز شاہ فارس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کیلئے مصم ارادہ کیا تھا اور گرفتار کرنے کیلئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے۔پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان تمام پُر خطر موقعوں سے نجات پانا اور ان تمام دشمنوں پر آخر کار غالب ہو جانا ایک بڑی زبر دست دلیل اس بات پر ہے کہ درحقیقت آپ صادق تھے اور خدا آپ کے ساتھ تھا۔150 حضور نے اپنی تقریر کے دوسرے حصہ میں ارشاد فرمایا:۔ایک موقع پر ظالمانہ طور پر ہمیں بھی قید میں بھیج دیا گیا۔گرمیوں کے دن تھے اور مجھے پہلی رات اُس تنگ کو ٹھڑی میں رکھا گیا جس میں ہوا کا کوئی گزر نہیں تھا اور اس قسم کی کوٹھڑیوں میں اُن لوگوں کو رکھا جاتا ہے جنہیں اگلے دن پھانسی پر لٹکایا جانا ہو۔زمین پر سونا تھا اوڑھنے کیلئے ایک بوسیدہ کمبل تھا اور سرہانے رکھنے کے لئے ایک اچکن تھی۔بڑی تکلیف تھی۔میں نے اس وقت دعا کی کہ اے میرے رب میں ظلم کر کے، چوری کر کے، کسی کی کوئی چیز مار کر یا غصب کر کے کوئی اور گناہ کر کے اس کوٹھڑی میں نہیں پہنچا۔میں اس جگہ اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ جہاں تک میرا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ میں تیرے نام کو بلند کرنے والا تھا میں اس جماعت میں شامل تھا کہ جو تو نے اس لئے قائم کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں پیدا کی جائے۔میرے رب مجھے یہاں آنے کی وجہ سے کوئی تکلیف نہیں مجھے کوئی شکوہ نہیں۔میں کوئی گلہ نہیں کرتا۔میں خوش ہوں کہ تو نے مجھے قربانی کا ایک موقع دیا ہے اور میری اس تکلیف کی میری اپنی نگاہ میں بھی کوئی حقیقت اور قدرنہیں ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میں اس جگہ جہاں ہوا کا گزر نہیں ،سونہیں سکوں گا۔میں یہ دعا کر رہا تھا اور میری آنکھیں بند تھیں۔میں بلا مبالغہ آپ کو بتا تا ہوں کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے نزدیک ایک ائر کنڈیشن لگا ہوا ہے اور اس سے ایک نہایت ٹھنڈی ہوانکل کر مجھ پر پڑنی شروع ہوئی اور میں سو گیا۔غرض ہر دکھ کے وقت میں ، ہر مصیبت کے وقت میں جب عظیم منصوبے بنائے گئے ان اوقات میں اللہ تعالیٰ کا پیار آسمان سے