تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 175 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 175

تاریخ احمدیت۔جلد 25 175 سال 1969ء مقصد کیلئے آپ یہاں آئے ہیں اس کے حصول کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور متضرعانہ دعاؤں کی توفیق پائیں اور اس جلسہ میں شامل ہو کر خدا اور اس کے رسول کی باتیں سنیں۔انہیں سمجھیں اور یہ عہد کریں کہ یہ ارشادات، اللہ کا یہ پیغام، قرآن عظیم ہم پر جو ذمہ داریاں عائد کرتا ہے۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ان ذمہ داریوں کو نباہنے کی توفیق بخشے۔کہیں یہ مقصد آپ کی نظر سے اوجھل نہ ہو جائے۔اور میں آپ کیلئے ہر وقت ہر آن دعا میں لگا رہتا ہوں۔حضور نے مزید فرمایا کہ سارا سال جو دعائیں میں آپ دوستوں کیلئے کرتا رہتا ہوں وہ سورۃ فاتحہ کی دعائیں ہیں جن کی تفصیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں بیان کی ہے۔ان دعاؤں کا خلاصہ اس وقت میں بلند آواز سے پڑھوں گا۔آپ آمین کہتے رہیں۔اس مختصر مگر انتہائی پر اثر خطاب کے بعد حضور نے سورۂ فاتحہ کے خلاصہ کے طور پر بآواز بلند نہایت جامع دعائیں پڑھیں۔جب حضور یہ دعائیں پڑھ رہے تھے تو جلسہ گاہ میں موجود سامعین پر وارفتگی کا عالم طاری تھا۔وہ تضرع و ابتہال کے ساتھ ان دعاؤں کو زیر لب دہرا رہے تھے۔اور نہایت سوز وگداز اور رقت کے ساتھ آمین اللهم آمین کہتے جاتے تھے۔158 پر معارف خطبہ جمعہ ۲۶ دسمبر کو جمعہ کا مبارک دن تھا۔اس روز حضور نے اپنے پُر معارف خطبہ جمعہ میں اسلام کی بنیادی اہمیت رکھنے والی دوا ہم ہدایات پر روشنی ڈالی۔(۱) حقوق اللہ ادا کرو (۲) حقوق العباد ادا کرو۔حضور نے بتایا کہ دراصل تمام حق تو اللہ کیلئے ہی ہیں۔اگر غور سے دیکھا جائے تو بندے کا کوئی حق بنتا ہی نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے حقوق بھی قائم کئے اور انہیں ضروری قرار دیا۔دراصل حقوق العباد علامات ہیں حقوق اللہ کی ادائیگی کی۔ہم کسی انسان کا حق اس لئے ادا نہیں کرتے کہ یہ اس کا ذاتی حق ہے بلکہ اس لئے ادا کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اسی نے بندے کا یہ حق قائم کر کے ہمیں اس کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔گو بندوں کی تمام نیکی اور سعادت اسی میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کریں۔اس نے جن مقامات میں اور جن ہستیوں کو اپنا نشان قرار دیا ہے ہمارا فرض ہے کہ ان کی عزت کریں۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجود باجود اللہ تعالیٰ کا ایک زندہ نشان تھا اور حضور نے جلسہ سالانہ کو بھی شعائر اللہ قرار دیا