تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 172
تاریخ احمدیت۔جلد 25 172 سال 1969ء ہونے سے مستفید ہوئے۔اجتماعی دعائیں ہوں یا انفرادی۔ذکر الہی کی مجالس ہوں یا مقامات مقدسہ و بیت الدعا میں انفرادی نوافل کے مواقع ، ہر آنے والے نے اپنی ہمت اور ظرف کے مطابق جی بھر کر روحانی فائدہ اٹھایا بلکہ رمضان شریف کے بعد بابرکت ایام اور پُر نور راتوں کی مثال تو جلسہ سالانہ کے ایام میں ہی نظر آتی رہی ہے۔مرکزی مساجد میں پنجگانہ نمازوں کے التزام کے ساتھ جلسہ کے دنوں میں مسجد مبارک میں اجتماعی طور پر نماز تہجد کا التزام رہا۔فجر کی نماز کے بعد مسجد مبارک کے اندر حدیث شریف کا درس محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب، مکرم مولوی محمد کریم الدین صاحب اور مکرم مولوی شریف احمد صاحب امینی فاضل نے دیا جبکہ مسجد اقصیٰ میں کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس دینے کی سعادت را قم الحروف ( مولوی محمد حفیظ صاحب ایڈیٹر بدر ) کو حاصل رہی۔محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اظہر جلسہ سالانہ کی نگرانی میں مہمانان کرام کے قیام و طعام کا انتظام بفضلہ تعالی تسلی بخش طور پر رہا۔دار مسیح ، مدرسہ احمدیہ و بورڈ نگ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور نصرت گرلز سکول کی عمارات میں اجتماعی طور پر مہمانان کرام نے قیام فرمایا۔نیز درویشانِ کرام کے گھروں میں بھی انفرادی طور پر مہمان قیام پذیر ہے۔اس دفعہ مہمانوں کی اجتماعی فرودگاہوں ( مدرسہ احمدیہ وتعلیم الاسلام سکول ) کے احاطہ ہی میں مہمانوں کی سہولت اور احسن رنگ میں خدمات بجالانے کے لئے طبی انتظام کا دفتر کھلا رہا جہاں ضرورتمند احباب کو طبی امداد بہم پہنچائی جاتی رہی۔مکرم چوہدری غلام ربانی صاحب انچارج احمدیہ شفاخانہ اور ان کے مستعد عمله نیز مکرم ملک بشیر احمد صاحب ناصر نے رضا کارانہ پُر خلوص خدمات سرانجام دیں۔قادیان اور اس کے مضافات میں ایک عرصہ سے امساک باراں کے سبب خشک سردی پڑ رہی تھی جس سے فلو وغیرہ کے عارضہ کا اندیشہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا خاص فضل شامل حال رہا اور سارا جلسہ خدا تعالیٰ کے فضل سے خیر و عافیت سے گزرا۔کوئی غیر معمولی کیس نہیں ہوا اور ہر طرح خیریت رہی۔فالحمد للہ علی ذالک نظارت دعوت و تبلیغ کی طرف سے جلسہ سالانہ کا جو تقریری پروگرام مرتب کیا گیا تھا خدا کے فضل سے تینوں روز نہایت کامیابی کے ساتھ جملہ اجلاسات ہوئے اور علماء کرام کی ٹھوس عالمانہ تقاریر سے سامعین کرام محظوظ ہوئے اور سب تقاریر کو بڑی دلچسپی اور توجہ سے سنا اور پسند کیا۔تینوں روز احمد یہ