تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 168 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 168

تاریخ احمدیت۔جلد 25 168 سال 1969ء میں سمجھتا ہوں کہ اس اختلاف کے پیدا کرنے والے بھی ہم ہی ہیں اور اس لئے اس اختلاف کا ازالہ بھی ہمارا اولین فریضہ ہونا چاہیے۔بحیثیت اس جماعت کے ایک ممبر کے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ جو راستہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھایا ہے اس کا اعلان کروں اور وہ یہ ہے کہ ہم سب دامنِ خلافت سے وابستہ ہو جائیں۔اسی جذبہ کے تحت سب سے اوّل میں خود یہ قدم اٹھاتا ہوں۔محمد یعقوب خان ۴ دسمبر ۱۹۶۹ء ۱۳۹۔احمد پارک ، لاہور۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی اپنے خدام سے پُر معارف گفتگو حضرت خلیفہ اُسیح الثالث ۶ دسمبر ۱۹۶۹ء کو بعد نماز فجر مسجد مبارک میں اپنے خدام کے ساتھ رونق افروز ہوئے اور ان سے گفتگو فرماتے رہے۔مسجد میں مکھیوں کے زیادہ ہو جانے کا ذکر ہوا تو حضور نے فرمایا کبھی گو ایک حقیر کیڑا ہے لیکن اگر ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو انسان سے زیادہ طاقتور ہے۔اگر مکھی کھانے میں سے ایک ذرہ اٹھا کر لے جائے تو انسان اس سے وہ ذرہ چھڑا نہیں سکتا۔اگر انسان غور کرے تو مکھی انسان کو یہ تنبیہ کرتی ہے کہ میں ذراسی ایک حقیر چیز ہوں مگر تم مجھ سے اتنا گھبراتے ہو لیکن وہ شیطان جو تمہارے نفس کے اندر ہے اس سے تم نہیں گھبراتے حالانکہ نفس کے شیطان سے اگر انسان بچار ہے تو ٹھیک ورنہ وہ جہنم میں جا پڑتا ہے۔حضور نے فرمایا نفس کے شیطان سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ نسخہ بتایا ہے کہ وہ رحمان کی رحمانیت کو یادر کھے اور ہمیشہ اس کی اس صفت اور اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے بے پایاں افضال پر غور کرتا رہے۔اس ضمن میں حضور نے سبحان الله وبحمده سبحان الله العظیم کا ورد جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور فرمایا انسان کے اندر ہر وقت یہ احساس بیدار اور زندہ رہنا چاہیے کہ ہر چیز ہمیں خدائے رحمن نے اپنی صفت رحمانیت کے ماتحت عطا کی ہے وہ ہماری اپنی نہیں تبھی انسان نفس کے شیطان سے محفوظ رہ سکتا۔ہے۔152 ربوہ میں عید الفطر کی بابرکت تقریبہ ربوہ میں عید الفطر کی بابرکت تقریب ۱۲ دسمبر کو نہایت سادگی اور پروقار طریق پر منائی گئی۔اہل ربوہ اور دور ونزدیک سے آئے احباب نے مسجد مبارک میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی اقتداء میں نما ز عید