تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 158
تاریخ احمدیت۔جلد 25 158 سال 1969ء خلافت ہے کسی اور کے ذریعہ سے سرانجام نہیں پا سکتے۔اس لئے (جس طرح پہلے الہی سلسلوں میں ہمیشہ یہ ہوتا رہا ہے ) جماعت احمدیہ میں بھی مختلف تنظیمیں تمکین دین اور خوف کو امن سے بدلنے کے سامان پیدا کرنے کے لئے بطور ہتھیار کے ہوتی ہیں اور یہ ہتھیار خلیفہ وقت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔۔۔۔جماعت کی کسی تنظیم میں بعض دفعہ عارضی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اسے دور کیا جاتا ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ میں بھی بعض کمزوریاں پیدا ہوئیں۔اس ہال پر بھی بعض بد نما داغ لگے لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔یہ داغ صاف کر دیے گئے اور ان پر خوبصورت رنگ و روغن کر دیا گیا اور مجلس خدام الاحمدیہ جو آہستہ آہستہ غیر محسوس طور پر ( آپ کے نقطہ نگاہ سے غیر محسوس طور پر ) تنزل کی طرف جارہی تھی اس میں زندگی کی رو پیدا ہوئی اور اس کے کاموں میں وسعت پیدا ہوئی۔کچھ اعداد و شمار آپ کے سامنے ہیں۔گو اس وقت زیادہ تفصیل سے تو نہیں بتائے جا سکے لیکن ہر لحاظ سے کمزوریاں جو تھیں وہ دور ہوئیں لیکن ابھی ہم اپنے کام میں سو فیصدی کامیاب نہیں ہو سکے اور میرے خیال میں انسان سو فیصدی کامیاب ہو بھی نہیں سکتا ورنہ اس کی جدو جہد ختم ہو جائے۔پس ابھی مزید ترقی بھی کرنی ہے۔اس لئے ایک طرف تو ہم سب کو ممنون ہونا چاہیے آپ کے بے نفس صدر کا جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ وہ بہت سی غلطیوں اور غفلتوں کو دور کر سکیں نیز بعض بدنما دھبوں کو اس مجلس کے چہرے سے دھو سکیں اور ایک خوبصورت رنگ میں ایک فعال جماعت کی حیثیت میں ایک تیز دھار والے روحانی آلہ کے طور پر اسے خلیفہ وقت کے ہاتھ میں رکھ سکیں کیونکہ بہر حال یہ روحانی تلوار خلیفہ وقت نے چلانی ہے زید یا بکرنے نہیں چلانی۔دوسری طرف مجھے خوشی ہوئی ہے کہ ایک لمبے عرصہ کے بعد اب ایک ایسے مخلص اور بے نفس نوجوان صدر بنے ہیں جن کا جسمانی رشتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نہیں لیکن جو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس ذمہ داری کو نباہنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔بہت سے لوگ ہیں جو جسمانی اولاد سے بھی آگے نکل جاتے ہیں حالانکہ وہ محض روحانی اولاد ہوتے ہیں۔جسمانی تعلق تو ایک دنیوی تعلق ہے۔مذہب یا روحانیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ ،