تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 156 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 156

تاریخ احمدیت۔جلد 25 156 سال 1969ء عزت وشرف کی پیاسی ہے۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی پیروی میں غریبوں کا سہارا بنے ، ان کے دکھوں کا مداوا کرے اور بیکسوں کی غم خواری کرے کیونکہ موجودہ زمانہ میں غریب طبقہ ہماری ہمدردی کا بہت محتاج ہے اور امراء کی نسبت اس طبقہ کی اصلاح اور ہدایت کا زیادہ امکان نظر آتا ہے۔اگر ہمارے دل میں ان کے لئے سچی ہمدردی اور بے لوث دوستی کا جذبہ نہیں ہے، تو ہم کس طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس عظیم الشان نبی کی امت ہیں جو صاحب اقتدار بادشاہ تھے لیکن اپنے اقتدار کو آپ نے ہمیشہ غریبوں کی مدد کیلئے وقف رکھا اور احسان اور دوستی کا بے مثال نمونہ قائم کیا۔اختتامی خطاب حضرت خلیفہ امسح الثالث۔اختتامی خطاب میں حضور نے اس امر پر نہایت والہانہ انداز میں روشنی ڈالی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صفات الہیہ کے مظہر اتم تھے۔حضور نے اللہ تعالیٰ کی چار امہات الصفات ( رب العالمین، الرحمن الرحیم، مالک یوم الدین) کی باریک در بار یک تفصیلات کو واضح کر کے ثابت فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ چاروں صفات اس شان سے جلوہ گر ہوئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجو د باجود میں ان کے عظیم الشان جلوے پر ایک دنیا عش عش کر اُٹھی۔حضور نے اس امر کے ثبوت کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے متعدد واقعات بیان کرنے کے علاوہ ان صفات کے جلووں کے طفیل آنحضور ﷺ کے صحابہ کرام کی زندگیوں میں رونما ہونے والے عظیم روحانی انقلاب پر بھی روشنی ڈالی اور آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک نہایت ہی پر معارف اور روح پرورارشادسنا کر احباب کو اپنی اپنی استعداد کے مطابق ان صفات کا مظہر بنے کی مؤثر تلقین فرمائی۔مظفر پور کا نفرنس میں احمد یہ وفد کی تقاریر 143 ۲۴ تا ۲۶ اکتو بر گورونانک صاحب کی پانچصد سالہ برسی کے سلسلہ میں مظفر پور (بھارت) میں ایک پُر وقار کا نفرنس منعقد ہوئی جسے ہندو مسلم اتحاد کا مرقع کہنا چاہیے۔۲۵ ،۳۰ ہزار سکھ دوستوں کے علاوہ مسلمان اور ہندو بھی بکثرت شامل ہوئے۔تقاریر کے پروگرام میں مسلمانوں کی جانب سے جماعت احمدیہ کے ہی مقررین تھے۔چنانچہ ڈاکٹر سید اختر احمد صاحب اور مینوی ہیڈ آف اردو ڈیپارٹمنٹ پٹنہ یونیورسٹی اور مولوی عبد الحق فضل صاحب مبلغ انچارج صوبہ بہار نے حضرت بابا