تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 151 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 151

تاریخ احمدیت۔جلد 25 151 سال 1969ء قرآنی تعلیم کو بھلا بیٹھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو ہم نے اپنی آنکھوں سے اوجھل کر لیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دنیا میں مبعوث فرمایا۔آپ نے اپنے آقا و مطاع صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر سے گردو غبار ہٹا کے قرآن مجید کے صحیح معانی اور زبر دست اسرار روحانی از سر کو دنیا کے سامنے پیش کئے۔آپ نے زبر دست عقلی اور نقلی دلائل اور زبر دست آسمانی تائیدات اور پیہم نازل ہونے والے نشانات کے ذریعہ قرآن عظیم اور اسلام کا چمکتا ہوا چہرہ دنیا کو اس شان سے دکھایا کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔جو لوگ آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی آواز پر لبیک کہا انہوں نے آپ کے پیش کردہ قرآن عظیم کے صحیح معانی اور زبردست اسرار روحانی کی مدد سے قوتوں اور استعدادوں کو ترقی دے کر اور ان کی صحیح رنگ میں نشو و نما کر کے محبت و اطاعت، اخلاص و فدائیت اور قربانی وایثار کی ایسی شاندار مثالیں پیش کیں کہ اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر انہیں اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لیا اور انہیں اپنے قرب خاص سے نوازا۔اُس قرب خاص سے جو قوتوں اور استعدادوں کی صحیح نشو و نما کے نتیجہ میں جناب الہی سے عطا ہوتا ہے۔اس موقعہ پر حضور نے قرآن عظیم اور اسلام کے اس چمکتے ہوئے نہایت درجہ حسین چہرے کی ایک جھلک دکھانے کی غرض سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض نہایت ہی دلکش پر معارف اور مسحور کن تحریر میں پڑھ کر سنا ئیں اور اس طرح ثابت کیا۔حضور نے نہایت مہتم بالشان طریق پر پوری قوت سے دنیا پر آشکار کیا کہ صرف اور صرف اسلام ہی ایک زندہ مذہب ہے۔اس کا خدا زندہ خدا ہے۔اس کا رسول زندہ رسول ہے اور اس کی کتاب زندہ کتاب ہے نیز حضور نے یہ دکھانے کیلئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس عظیم الشان تجدیدی کارنامے کا کیا اثر ظاہر ہوا۔حضور علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہنے والے خوش نصیب انسانوں کی فی زمانہ بے مثال محبت و اطاعت ، اخلاص و فدائیت اور قربانی و ایثار کے متعدد واقعات بیان فرمائے اور فرمایا یہ وہ خزانہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش کیا۔اس خزانہ کی قدرومنزلت کو وہ لوگ جانتے تھے جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کر کے اپنی قوتوں اور استعدادوں کی صحیح رنگ میں نشو و نما کی اور وہ رضائے الہی کی جنتوں کے وارث بنے۔یہ روح اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی جماعت میں مسلسل جاری ہے لیکن پیدائشی احمد یوں میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس خزانہ کی قدر و قیمت کو اس طرح نہیں پہچانتا جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے۔یہ وہ لوگ ہیں