تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 150
تاریخ احمدیت۔جلد 25 150 سال 1969ء معنوں میں نشو و نما دینے کی کوشش کریں۔(۲) انہیں صحیح مصرف پر خرچ کریں یعنی ان راہوں کو حاصل کرنے کیلئے خرچ کریں جو اس کی ہدایت کے مطابق ہوں اور جن سے اس کی رضا اور اس کا قرب ہمیں حاصل ہو سکے۔حضور نے بتایا کہ انسان کو یہ جو چار قابلیتیں دی گئی ہیں۔خدام الاحمدیہ کے سارے پروگرام انہی کے نشو ونما اور ترقی کے لئے بنائے گئے ہیں۔خدام کیلئے ضروری ہے بلکہ ہماری ہر نسل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی تمام قابلیتوں اور صلاحیتوں کی صحیح نشو و نما کریں اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق انہیں کمال تک پہنچانے کی کوشش کریں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر خرچ کریں۔اختتامی خطاب اجتماع کا اختتامی اجلاس ۱۹ اکتوبر کو منعقد ہوا۔حضرت خلیفتہ المسح الثالث نے بھی اس میں بنفس نفیس شرکت فرمائی۔حضور نے مختلف مقابلہ جات میں نمایاں امتیاز حاصل کرنے والے خدام کو شرف مصافحہ بخشا۔اور مجالس اور اضلاع میں اول ، دوم اور سوم آنے والی قیادتوں میں اپنے دست مبارک سے انعامات تقسیم فرمائے اور اسناد دیں۔بعد ازاں خدام کو اپنے بیش قیمت اختتامی خطاب سے نوازا۔اپنے ایمان افروز افتتاحی خطاب میں حضور نے نہایت شرح وبسط کے ساتھ بتایا کہ انسان کی قوتوں اور استعدادوں کی حد بسط ہے۔برخلاف اس کے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں غیر محدود اور بے شمار ہیں۔اور ان سے متمتع ہونے کے لئے اِن استعدادوں کو ترقی دینا اور انہیں کمال نشو و نما تک پہنچانا ضروری ہے اور اس کے لئے اسباب مادیہ سے کام لینا پڑتا ہے۔جن کو صحیح رنگ میں استعمال کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو دنیا میں مبعوث فرمایا اور بالآخر اپنے بے پایاں فضل کے نتیجہ میں قیامت تک کے واسطے ہماری راہنمائی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔آپ ﷺ پر وہ شریعت نازل کی جو ہر لحاظ سے کامل مکمل اور اکمل ہے۔ایک طرف ہمیشہ ہمیش قائم رہنے والا قانون عطا کیا اور دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا راہبر عطا کیا جو کمالات کا جامع ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تعلیم کا کامل عملی نمونہ ہمارے سامنے پیش کر کے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم اپنی قوتوں کی صحیح رنگ میں نشو ونما کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں اور اس کی رضا کی جنتوں کے وارث قرار پائیں۔تعلیم اور عملی نمونہ دو چیزیں ہماری رہنمائی کیلئے خدا نے ہمیں عطا کیں اور اس لئے عطا کیں کہ ہم اپنی قوتوں اور استعدادوں کی صحیح رنگ میں نشو ونما کرسکیں۔لیکن جب مرور زمانہ اور اپنی غفلت سے ہم