تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 149
تاریخ احمدیت۔جلد 25 149 سال 1969ء ان فرکس پنجاب یونیورسٹی، ڈاکٹر یار محمد ظہیر صاحب لیکچرار ان فرکس پنجاب یونیورسٹی، ڈاکٹر منان یین صاحب ہیڈ آف دی فزکس ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ کالج لاہور، جناب آفتاب احمد صاحب الیکٹرانک ایکسپرٹ گورنمنٹ کالج لاہور، جناب یوسف صاحب لیکچرار ان فزکس گورنمنٹ کالج فیصل آباد اور آغا عبداللطیف صاحب ڈپٹی سیکرٹری بھی موجود تھے۔مجلس خدام الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع 137- اس سال مجلس خدام الاحمدیہ کا ستائیسواں مرکزی سالانہ اجتماع علمی و دینی مصروفیات نیز دعاؤں اور ذکر الہی کے پاکیزہ ماحول میں مورخہ ۱۷ تا ۱۹ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو مسجد اقصیٰ ربوہ سے ملحقہ وسیع میدان میں منعقد ہوا۔اس اجتماع میں جو (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے عہد صدارت کا آخری اجتماع تھا، ۲۳۵ مجالس کے ۲۵۰۰ خدام نے شرکت کی۔اجتماع میں مجلس شوری میں نئے صدر کا انتخاب ہوا چنانچہ چوہدری حمید اللہ صاحب کی بطور صد ر خدام الاحمدیہ منظوری ہوئی۔اجتماع ہوئی۔اجتماع کے دوران متعد د علمی و ورزشی مقابلہ جات بھی منعقد ہوئے جن میں خدام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔امسال اجتماع کے موقعہ پر شعبہ صنعت و حرفت کی طرف سے ایک صنعتی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔خدام اور زائرین نے اس نمائش میں گہری دلچسپی لی۔افتتاحی خطاب اس اجتماع کا افتتاح سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے بصیرت افروز خطاب اور اجتماعی دعا سے فرمایا۔حضور نے اپنے پر معارف افتتاحی خطاب میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی نعمتوں کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے طور پر انسان کو چار بنیادی قابلیتیں عطا فرمائی ہیں۔(۱) جسمانی قابلیتیں (۲) ذہنی نشوونما کی طاقتیں (۳) اخلاقی طاقتوں کو نشو ونما دینے کی صلاحیتیں (۴) روحانی ارتقاء کی قابلیتیں۔حضور نے بتایا کہ جسمانی قابلیتیں اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا پر تو ہیں۔ذہنی نشو و نما اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے ماتحت ہوتی ہے۔اخلاقی نشو ونما کا تعلق اس کی صفت رحیمیت سے ہے اور روحانی ارتقاء کی قابلیتیں اس کی صفت مالکیت کی مظہر ہیں۔ان قابلیتوں کے عطا ہونے پر ہم اللہ تعالیٰ کا کس طرح شکر ادا کر سکتے ہیں؟ اس کی تشریح کرتے ہوئے حضور نے بتایا کہ شکر ادا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم (1) اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ ان نعمتوں کو صحیح