تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 143 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 143

تاریخ احمدیت۔جلد 25 143 سال 1969ء ۱۰ اکتوبر کو حضور نے مسجد دارالذکر میں ایک پُر معارف خطبہ ارشاد فرمایا۔جس میں خلافت حقہ کی عظیم نعمت پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور بتایا اللہ تعالیٰ اپنی خاص مشیت کے ماتحت بظاہر ایک کم مایہ اور نا تجربہ کار شخص کو مسند خلافت پر بٹھاتا ہے اور پھر اس کے فضل سے اس کے وجود میں قدرت ثانیہ کا ظہور اس رنگ میں جلوہ افروز ہوتا ہے کہ اس کے مقابلے میں جولوگ اپنے آپ کو بڑا کرتا دھرتا سمجھتے ہیں یا اپنی تجربہ کاری اور تجر علمی کا دم بھرتے ہیں۔وہ اس کے جلال و جمال اور عقل و فراست کے سامنے مات کھا جاتے ہیں۔ان کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔خلافت اولیٰ اور پھر خلافت ثانیہ کے حالات اور واقعات اس کے شاہد ناطق ہیں۔خلافت ثالثہ کا قیام بھی انہی بنیادوں پر عمل میں آیا ہے۔اس وقت بھی جماعت میں بڑے عالم، بڑے بزرگ اور بڑے ولی موجود تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی نظر انتخاب مجھے کم مایہ پر پڑی۔میں اپنی ذات میں کچھ نہیں ہوں۔میرا پہلا اور آخری سہارا اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تعالیٰ مجھ سے جب اپنے پیار کا اظہار فرما تا اور اپنے فضلوں اور رحمتوں کی بارش برساتا ہے۔تو میرا دل جذبات تشکر سے لبریز ہوکر اس کے حضور اور زیادہ جھک جاتا ہے۔اس عاجزی اور کم مائیگی کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحمت کے سہارے پر خلیفہ وقت کو ایک غنی کا مقام بھی حاصل ہوتا ہے۔اور اس لحاظ سے اسے منافقوں،ست اعتقادوں اور متکبروں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔پس خلافت حقہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اس کی قدر کرنے اور اس کی برکات سے متمتع ہونے میں ہر ایک کی اپنی دین ودنیا کی بھلائی اور ہم سب کی خوشی ہے۔حضور کی لاہور میں تشریف آوری اور مختصر قیام کے پیش نظر ضلع کی شہری اور دیہاتی جماعتوں کو بھی حضور کی ملاقات اور حضور کے ارشادات سے مستفید ہونے کے لئے ملک منور احمد صاحب جاوید قائد ضلع لاہور ( حال نائب ناظر ضیافت ربوہ) نے احباب کے بسہولت لاہور پہنچنے کے لئے بس کا انتظام کیا۔چنانچہ قصور، للیانی، کھیر پڑ، لدے کے نیویں، ہڈ پارہ ، جوڑہ ، ہانڈ و، باٹا پور، کماس ، راجہ جنگ اور شاہدرہ ٹاؤن کے ایک سو سے زائد ا حباب ایک سپیشل بس پر لاہور پہنچے۔حضور نے اس روز مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں اور اس کے بعد احباب کو مختلف علمی اور دینی موضوعات پر اپنے ارشادات عالیہ اور بیش قیمت نصائح سے مستفیض فرمایا۔چنانچہ فرمایا کہ قانون کی خلاف ورزی کی سزا کے لحاظ سے چھوٹے بڑے کا سوال پیدا نہیں ہونا چاہیے۔قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ہمیشہ اچھی اور پائیدار حکومت وہی ثابت ہوتی ہے جس میں قانون کا احترام پایا جاتا ہو۔حضور نے فرمایا کہ