تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 142 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 142

تاریخ احمدیت۔جلد 25 142 سال 1969ء اسی روز حضور مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے مجلس علم و عرفان میں رونق افروز ہوئے اور احباب جماعت کو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے سیر حاصل مطالعہ اور مسائل کی گہری تحقیق کرنے کی ہدایت فرمائی اور بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب دراصل دینی علوم کا ایک بحر ذخار اور ایک قیمتی خزانہ ہے۔ان علوم سے بے بہرہ ہونے اور اس دولت بے بہا سے خود کو بھی اور اپنی نسلوں کو بھی مالا مال کرنے میں کسی دم بھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔نیز فرمایا کہ کتب سلسلہ کے گہرے اور مسلسل مطالعہ کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جملہ دعاوی پر علی وجہ البصیرت ایمان نصیب ہوتا ہے اور اس میں پختگی پیدا ہوتی ہے اور اس طرح مخالفین حق کے ہر وار کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی توفیق ملتی ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ تجدید دین اور احیائے اسلام کے شاندار کارناموں کے ذکر پر حضور نے فرمایا کہ امت محمدیہ کو یہ بشارت دی گئی تھی کہ ہر زمانہ میں سینکڑوں ہزاروں اخیار و ابرار احیائے اسلام کے لئے پیدا ہوتے رہیں گے۔البتہ اس سلسلہ اولیاء کی کڑی میں سے نمایاں طور پر بالعموم صدی کے سر پر آنے والے مجددین کا وجود ہوگا جو ایک ہی وقت میں کئی ہو سکتے ہیں۔حضور نے فرمایا اسلامی لٹریچر اور واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں میں کئی کئی مسجد دین ہوتے رہے ہیں۔اسی لئے اسلام کے مختلف مکتب فکر کی کتابوں میں ایک ہی صدی کے مختلف مجددین تسلیم کئے گئے ہیں پس امت محمدیہ پر کبھی ایسا زمانہ نہیں آیا کہ وہ اولیاء اللہ کے وجود سے خالی رہی ہوتی کہ فیج اعوج کے گئے گزرے زمانہ میں بھی اولیاء اللہ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح موجود رہے ہیں۔پس کسی بھی زمانہ کو مجدد کے وجود سے خالی سمجھنا ایک ایسا شیطانی خیال ہے جس کی زد براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑتی ہے کہ نعوذ باللہ آپ کی یہ بشارت پوری نہیں ہوئی کہ ہر زمانے میں تجدید دین کرنے کے لئے سینکڑوں ہزاروں مجددین آتے رہیں گے۔البتہ ان مجددین میں موعود مجدد ایک ہی ہے جو مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔ان پر آکر ایک سلسلہ مجددین ختم ہو جاتا ہے البتہ دوسرا سلسلہ جس میں ایک وقت میں احیائے دین ، استحکام دین اور اشاعت قرآن کے لئے سینکڑوں ہزاروں بھی ہو سکتے ہیں اور عملاً سرفروش مجاہدین دین کی شکل میں موجود بھی ہیں۔یہ سلسلہ اپنی جگہ پر قائم ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ خلافت میں مجددین کی اس روحانی فوج کے سربراہ ہمیشہ خلفائے وقت ہی ہوتے رہیں گے۔