تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 136
تاریخ احمدیت۔جلد 25 136 سال 1969ء ان میں سے دو تو ایسے ہیں جن کی نظیر سارے پاکستان میں شائد نہیں ملے گی۔۔سٹور۔سٹور کا حصہ تین مختلف سٹوروں پر مشتمل ہے جو بیک وقت بی ایس سی اور ایم ایس سی کی کلاسز کے کام آسکتا ہے۔لیکچر روم۔ایک بڑے تھیٹر کے علاوہ دو چھوٹے لیکچر روم بھی بنائے گئے ہیں۔تھیٹر میں سمعی اور بصری تعلیم کی بھی مکمل سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔۱۰۔دفتر۔جنوبی حصے میں " 13 × 18 کے چار کمرے پر وفیسروں کے مطالعہ اور دفتر کے لئے مختص ہیں ان میں سے ایک کمرہ کمیٹی روم کے طور پر استعمال ہوگا۔جہاں طلباء اور اساتذہ باہم مل کر گفتگو کرسکیں گے۔۱۱۔لائبریری۔فزکس کی اپنی علیحدہ لائبریری ہے جس میں ایک ہزار سے زیادہ مستند، مفید اور نایاب کتب مہیا کی گئی ہیں۔ان میں سے خاص طور پر قابل ذکر وہ چودہ سائنس کی ڈکشنریاں ہیں جو خاص تحقیقی کاموں اور روزمرہ کے تجربات کے لئے انتہائی مفید ہوں گی۔یہ سارا منصوبہ حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کی ذاتی دلچسپی اور توجہ سے پروان چڑھا ہے۔مجددیت سے متعلق ایک نامہ تخیل کی تردید 66 128 ان دنوں اس غلط تخیل کو بڑی کوشش سے جماعت میں پھیلایا جارہا تھا کہ اس وقت کوئی مجدد نہیں۔سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے ۷ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو اس شیطانی وسوسہ کی پُرزور تردید کرتے ہوئے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اور امتوں کو تو چھوڑو بنی اسرائیل میں ایک وقت میں سینکڑوں ہزاروں مجدد ہوا کرتے تھے۔پھر آپ نے فرمایا ہے کہ مجدد اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور روحانی سلسلہ جہاں سے بھی شروع ہوا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے اور مثیل موسیٰ ہونے کی حیثیت سے آیت استخلاف کے ماتحت آپ کے سلسلہ میں بھی ہزاروں لاکھوں مجددین کا آنا ضروری تھا۔چنانچہ یہ تجدید دین کرنے والے ہر علاقہ اور ہر ملک میں آئے اور انہوں نے تجدید دین کا کام باحسن طریق ادا کیا۔نائیجیریا کے عثمان فودیو