تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 133 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 133

تاریخ احمدیت۔جلد 25 133 سال 1969ء بحث کی عادت نہیں۔اس نے کہا تمہارا یہ خیال ہے اور میرا یہ خیال ہے اور بات ختم کر دی۔بہر حال جو تاثر وہ دینا چاہتا تھا وہ نہ دے سکا۔دوسرے تیسرے دن اس نے پھر اعتراض کیا تو میں نے پھر اس کا جواب دیا۔مصر کے بعض طلباء نے مجھے کہا کہ تم اپنے آپ پر کیوں ظلم کر رہے ہو۔یہی پڑھانے والا ہے اور یہی امتحان لینے والا ہے۔میں نے کہا یہ مجھے امتحان میں فیل نہیں کرے گا کیونکہ ان لوگوں کی تربیت ہی ایسی ہے کہ اگر میرا پر چہ ٹھیک ہوا تو یہ مجھے فیل نہیں کرے گا۔غرض اس شخص کا دماغ گومعاند دماغ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے حافظہ اور ذہن عطا کیا تھا۔اور گواس نے اس ذہن اور حافظہ کا غلط استعمال کیا لیکن اسلام کے ظاہری علوم میں اس میں (اور اس جیسے دوسرے مستشرقین ) اور مسلمان علماء میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔سوائے دشمنی اور محبت کے فرق کے۔پس وہ دل جو اللہ تعالیٰ کی ذاتی محبت سے خالی ہے۔ممکن ہے کہ اگر اسے دلچسپی ہو اور وہ ذہن اور حافظہ سے کام لے اور کتابیں پڑھے تو بہت سے حوالے اس کو یاد ہوں گے اور وہ تقاریر لمبی کرے گا لیکن اس بات میں کہ کسی کو بہت سے حوالے یاد ہیں اور وہ تقریر کر سکتا ہے ایک مسلمان میں اور ایک مستشرق میں کوئی فرق نہیں بلکہ ممکن ہے ایک مستشرق ایک مسلمان سے زیادہ اچھا ذہن رکھتا ہو اور اس کو اس سے زیادہ حوالے ازبر ہوں اور اس کے مقابلہ میں وہ سینہ جو خدا تعالیٰ کی ذاتی محبت سے معمور ہو ممکن ہے اس کا حافظہ اور ذہن اتنا اچھا نہ ہو جتنا دوسرے گروہ میں سے کسی کا ہے لیکن یہ ممکن نہیں کہ اسے کسی وقت خدا تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہو اور وہ اُسے نہ ملے۔خطاب کے آخر میں فرمایا اگر محض دلائل کام دے سکتے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت کے معجزانہ مشاہدہ کی ضرورت دنیا کو نہ ہوتی تو ہم مارگولیتھ جیسے عیسائی کو حوالے یاد کروا کے باہر بھیج دیتے اور ہمارا کام پورا ہو جاتا لیکن ہمارا یہ مقصد نہیں۔ہمارا مقصد یعنی جماعت احمدیہ کے قیام کا یہ مقصد ہے کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کے جلوے دیکھے۔اگر ہمارے اپنے سینے خدا تعالیٰ کی محبت ذاتی سے خالی ہوں تو دنیا ہمارے ذریعہ خدا تعالیٰ کی محبت ذاتی کے جلوے کس طرح دیکھ سکے گی۔آپ ہمیشہ سوچا کریں اور یہ سوچنے کی بات ہے کہ واقعہ میں آپ میں وقف کی روح پائی جاتی ہے یا نہیں۔کیا آپ اللہ تعالیٰ سے اس قسم کی محبت کا تعلق رکھتے ہیں کہ دنیا چاہے آپ کو قیمہ کر دے آپ کے جسم کا ذرہ ذرہ کر دے لیکن خدا تعالیٰ سے محبت میں کوئی فرق نہ آئے۔بہر حال یہ سوچنے کی بات ہے اور آپ ہمیشہ اس نہج پر سوچیں اور دعا کریں۔میں تو ہمیشہ دعا کرتا رہتا ہوں اور آئندہ بھی کروں گا کہ جس حسین