تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 132
تاریخ احمدیت۔جلد 25 132 حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا مجاہدین احمدیت سے خطاب سال 1969ء ۲۰ ستمبر ۱۹۶۹ء کو بعد نماز مغرب دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے احاطہ میں لوکل انجمن احمد یہ ربوہ کی طرف سے بیرونی ممالک میں پیغام حق پہنچا کر واپس تشریف لانے والے اور اعلائے کلمۃ اللہ کی غرض سے بیرونِ پاکستان روانہ ہونے والے بیس کے قریب مجاہدینِ احمدیت کے اعزاز میں ایک عشائیہ ترتیب دیا گیا۔اس موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے نہایت عارفانہ خطاب سے سرفراز فرمایا چنا نچہ سب سے پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الہامی دعا رَبِّ أَرِنِى حَقَائِقَ الاشياء ( ترجمہ۔اے میرے رب مجھے اشیاء کے حقائق دکھلا )۔ہمیشہ ور دزبان رکھنے کی تلقین فرمائی۔پھر ارشاد فرمایا کہ مستشرقین میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے ان علوم میں بڑی مہارت حاصل کی ہے۔ان میں سے ایک مارگولیتھ بھی گزرے ہیں۔جنہوں نے بہت سی کتابیں اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف لکھی ہیں۔ایک وقت میں اس کا یہ دعویٰ تھا کہ میرا اسلام کا مطالعہ اتنا وسیع ہے کہ اس زمانہ میں کسی مسلمان عالم نے مسند احمد بن حنبل شروع سے آخر تک نہیں پڑھی ہے۔لیکن میں نے یہ کتاب شروع سے آخر تک پڑھی ہے۔اس دعوی میں وہ سچا تھا یا نہیں۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ذہن دیا تھا۔اس نے قرآن کریم کا ترجمہ سیکھا اور بہت سی کتب احادیث کی شرح کی بھی پڑھیں اور اس کے حافظہ نے بہت سی باتوں کو یاد کیا۔اور اس شیطانی دل نے اسلام پر حملہ کرنے کا کوئی موقعہ نہ چھوڑا۔یہ اس کی فطرت کا ایک حصہ تھا۔آکسفورڈ کی پہلی ٹرم میں لاطینی وغیرہ زبانوں کا امتحان بھی پاس کرنا پڑتا ہے اور چونکہ غیر ملکی طلباء لاطینی وغیرہ کا علم نہیں رکھتے اس لئے انہوں نے فارسی ، عربی اور سنسکرت زبانوں میں سے کوئی ایک زبان لینے کی سہولت دی ہے۔میں نے سہولت کی وجہ سے عربی زبان لی اور یہ صاحب ( مارگولیتھ ) وہاں عربی پڑھایا کرتے تھے۔غالباً دوسرا یا تیسرا دن تھا کہ اسے اسلام پر حملہ کرنے کا پہلا موقعہ ملا اور اس نے اسلام پر اعتراض کیا۔اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میں نے یہ عہد کیا تھا کہ جب بھی وہ اسلام یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرے گا میں اس کا جواب دوں گا۔چنانچہ جب اس نے اعتراض کیا تو میں کھڑا ہو گیا اور کہا کہ آپ نے جو استدلال کیا ہے وہ قرآن کریم کی فلاں آیت یا فلاں حدیث کے خلاف ہے۔ان لوگوں اور خاص طور پر آکسفورڈ کے استادوں کا یہ طریق ہے کہ انہیں