تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 2
تاریخ احمدیت۔جلد 25 2 سال 1969ء زوال سے بچایا ہوا ہے۔آپ ہی کے طفیل اس عالم موجودات کی ہر شے نے رب رحمن کی قدرتوں کے جلوے دیکھے اور انسان نے اپنے محبوب خالق کا پیار پایا اور اس کی بے پایاں رحمت سے حصہ لیا۔نیز آپ علﷺ ہی امن اور صلح اور سلامتی کے شہنشاہ ہیں۔آپ کی لائی ہوئی تعلیم ، ہدایت اور شریعت ہی بھٹکی ہوئی انسانیت کو ہلاکت اور تباہی اور قہر الہی کی بھڑکتی ہوئی آگ سے واپس لوٹا کر رب مہربان کی پیار بھری نظروں کے ٹھنڈے سایہ میں لاسکتی ہے۔ہمارا اس حقیقت پر علی وجہ البصیرت قائم ہونا ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم بھی بنی نوع انسان کے لیے رحمت بنیں، کسی کو دکھ نہ پہنچائیں ، ہر ایک کے ہمدرد اور خیر خواہ ہوں ،مظلوم کی حمایت پر کمر بستہ رہیں، پیار اور محبت سے نیکی کی تعلیم دیتے رہیں اور محمد ﷺ کے حسن اور آپ کے احسان کے جلوے دنیا پر ظاہر کرتے رہیں، دنیا کو سکھ پہنچانے کے لئے ہر دکھ سہنے کو ہمہ وقت تیار رہیں۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔درویشان قادیان! آپ مسیح محمدی کی پاک بستی میں محبت کی شمع روشن کیے بیٹھے ہیں، محبت کی یہ گرمی کم نہ ہونے پائے۔اکتا نہ جائیں تھکیں نہ، مایوس نہ ہوں تا وقتیکہ انجام بخیر ہو۔اللہ آپ کا حافظ، اللہ آپ کا ناصر ، اس کی رحمت ، اس کی نصرت ہمیشہ شامل حال رہے۔ملک ہند میں بسنے والے سب احمدی بھائیو! نوع انسان کی نجات اسلام میں ہے۔اسلام سراپا محبت ہے، اسلام محافظ عزت و ناموس انسانی ہے، اسلام پاسبان حقوق انسانی ہے، اسلام سلامتی کی راہیں اور امن صلح اور آشتی کی دنیا ہے۔امن صلح اور آشتی کے اس پیغام کو گھر گھر پہنچا ئیں۔اللہ آپ کو ہمت دے، سب کو ہی پیارومحبت کے اس پیغام کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے۔میری دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں۔آپ سے دعا کی درخواست ہے۔فقط۔خاکسار