تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 125 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 125

تاریخ احمدیت۔جلد 25 125 سال 1969ء کانفرنس کا افتتاح مراکش کے شاہ حسن ثانی نے کیا۔انہوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ آج ساری دنیا کی نگاہیں اس تاریخی کا نفرنس پر لگی ہوئی ہیں۔ہمیں اس وقت نہایت اہم فیصلے کرنے ہیں۔اسرائیل کی جارحیت اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعہ حل نہیں ہو سکے ، ہمیں ان کا ایسا تسلی بخش حل نکالنا ہے کہ جس سے مسلمانوں کو دنیا میں سر بلندی حاصل ہو سکے۔انہوں نے کہا ہمیں فلسطین کے مہاجر بھائیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔وہ سالہا سال سے گھروں سے بے گھر مارے مارے پھر رہے ہیں۔حضور انور کی طرف سے دعا کی تحریک اسی روز حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے احباب جماعت کو خاص طور پر تحریک دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مسلمان سربراہوں کی ، جو آج رباط میں اجتماع کر رہے ہیں صحیح رہنمائی فرمائے اور انہیں ایسی توفیق بخشے کہ وہ متحد ہو کر مسئلہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے معاملہ کو حل کرنے کی توفیق پائیں۔122 صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کا برقی پیغام اس موقع پر حضور انور کی زیر ہدایت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل انتبشیر نے مراکش کے شاہ حسن ثانی صدر رباط کا نفرنس اور یحییٰ خان صاحب صدر پاکستان کے نام یہ پیغام ارسال کیا:۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنے فضلوں سے نوازے اور غور وفکر کے بعد صحیح فیصلے کرنے میں کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔میں آپ کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ فلسطین کا مسئلہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔فلسطین اُس مقام سے جہاں ہمارے آقا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدفون ہیں بہت قریب ہے۔یہودحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ابتداء سے لے کر آخر تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مسلسل شرارتیں اور ریشہ دوانیاں کرتے رہے تھے۔انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی خود بھی سازشیں کیں اور دوسروں کو بھی ایسی سازشوں پر اکساتے رہے لیکن وہ اپنی ان سازشوں میں بری طرح ناکام و نا مرا در ہے۔اب وہ اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور آثار سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں مدینہ پر ہیں اور وہ مدینہ کی طرف پیش قدمی کے منصوبے باندھ رہے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس وقت عرب متحد ہیں اور یہودیوں کا چیلنج قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔لیکن کیا عرب