تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 100 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 100

تاریخ احمدیت۔جلد 25 100 سال 1969ء کا ہر لمحہ قرآن کریم کی تفسیر تھا کیونکہ آپ نے قرآن کریم کے مطابق اپنی زندگی گزاری تھی اور آپ کی زندگی کا ہر پہلو قرآن کریم کی تعلیم کا ایک پہلو ہے۔ہم قرآن کریم کو اس لئے پڑھتے ہیں کہ یہ ایک مکمل ہدایت نامہ ہے، مکمل شریعت ہے اور عمل کرنے والی کتاب ہے۔خالی پڑھنے اور پھر سو جانے والی کتاب نہیں۔اس کو اس نیت اور عزم سے سیکھنا چاہیے کہ ہمیں اس کے مطابق اپنی زندگی گذارنا ہے۔۔۔۔پس قرآن کریم کو اس نیت کے ساتھ سیکھنا چاہیے کہ اس پر عمل کرنا ہے۔جو شخص قرآن کریم کو اس نیت کے ساتھ اپنی سمجھ اور طاقت کے مطابق نہیں سیکھتا وہ حقیقتاً احمدی نہیں۔اگر وہ باغیانہ خیالات رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مجھے قرآن کریم سیکھنے کی ضرورت نہیں تو وہ یقیناً احمدی نہیں لیکن اگر وہ باغیانہ خیالات نہیں رکھتا۔ہاں اس کا اس طرف رجوع نہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے اس طرف توجہ دلائیں۔۹ راگست کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔ہے کہ 100 اس وقت میں یہ بات بچوں کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ ہمارا یہ ایمان جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا تو ہمیں اپنے ہر مسئلہ کے حل کے لئے قرآن کریم کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ادھر ادھر نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ قرآن کریم ہی سے ہمیں سب کچھ مل جاتا ہے۔قرآن کریم اقتصادیات کی کتاب نہیں لیکن یہ انسانی حقوق کو قائم کرنے والی کتاب ہے۔اس لئے اس میں اقتصادیات کے اصول بھی پائے جاتے ہیں۔سیاست کے اصول بھی پائے جاتے ہیں۔زراعت کے اصول بھی پائے جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے دیتا ہے وہ انہیں سمجھ لیتے ہیں۔ضرورتوں کے ساتھ ساتھ علوم کھلتے جاتے ہیں۔پس قرآن کریم سے اس رنگ میں پیار کرنا چاہیے کہ اس کے بعد کسی چیز کی ضرورت محسوس نہ ہو۔حضور نے سفر کراچی کے پیش نظر ۱۵اگست کو بعد نماز جمعہ سب طلباء کو شرف مصافحہ بخشا اور بعد نماز مغرب الوداعی خطاب میں فرمایا کہ ہمارا چاند تو قرآن مجید ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام 101