تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 98
تاریخ احمدیت۔جلد 25 98 سال 1969ء برصغیر کے بعض چوٹی کے علمی اور دینی حلقوں کی طرف سے اس ترجمہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ہفت روزہ ” صدق جدید لکھنو ( مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۶۹ء) میں ایک یورپی ترجمہ قرآن“ کے عنوان سے حسب ذیل مراسلہ شائع ہوا: قرآن کریم کے ترجموں کا ذکر چونکہ صدقِ جدید میں ہوتا رہتا ہے اس لئے مناسب سمجھا کہ جناب اور جناب کے واسطے سے قارئین صدق جدید کا تعارف ایک نئے ترجمہ قرآن اور ایک نومسلم مستشرق سے کرا دیا جائے۔نیا ترجمہ اسپرانٹو (Esperanto) زبان میں جہاں تک کتب مقدسہ کا تعلق ہے صرف بائیبل کا ترجمہ ہوا ہے۔مترجم اطالوی نژاد ڈاکٹر اطالو کیوسی ہیں۔ان کا اسلامی نام عبدالہادی ہے۔اگر چہ ان کی ڈاکٹریٹ ریاضی میں ہے مگر ماہر لسانیات ہیں۔اسپرانٹو اور مادری زبان اطالوی کے علاوہ جرمن، فرنچ اور انگریزی میں بھی پوری قدرت ہے۔آج کل فرینکفرٹ ، جرمنی میں ایک اطالوی کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں۔قرآن کریم کے ترجمہ سے پہلے انہوں نے با قاعدہ عربی کی تعلیم حاصل کی اور ترجمہ کے دوران ہی اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کے بدنام' فرقے جماعت احمدیہ سے منسلک ہو گئے۔طباعت سے پہلے ایک مصری ڈاکٹر ناصف نے جو اسپرانٹو کے بھی ماہر ہیں اور خود احمدی نہیں ہیں ترجمہ پر نظر ثانی کی۔پہلا ایڈیشن جو اس سال عربی متن اور اسپرانٹو ترجمہ کے ساتھ نہایت عمدہ کاغذ پر طبع ہوا تھا شائع ہوتے ہی ختم ہو گیا۔میرے پاس مترجم کا دستخط شدہ نسخہ ہے ورنہ ہدیہ کرتا۔اب نمونے کا ایک ورق حاصل ہے۔ضخامت ۶۷۰ صفحات جلد نفیس مطبوعہ کو پن ہیگن ( ڈنمارک)۔مترجم سے میری ملاقات سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں ہوئی۔۔۔روزے نماز کے پابند ہیں۔آج کل حدیث شریف کا انتخاب اطالوی میں ترجمہ کر رہے ہیں۔ڈاکٹر کیوسی نے اپنے ترجمہ میں ایک خاص جدت کی ہے۔اپنے ترجمہ پر Holy Quran یعنی قرآن مقدس کے ہم معنی الفاظ نہیں لکھے۔کہتے ہیں قرآن کریم ہے، مجید ہے، عظیم ہے عزیز ہے، کبیر ہے، حکیم ہے۔یہ ہولی یعنی مقدس کا لفظ بائبل کی تقلید میں آگیا ہے۔چنانچہ ان کا ترجمہ La Nobla Korano یعنی قرآن کریم کے نام سے طبع ہوا۔ترجمہ کی خوبی کا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسپرانٹو کے ایک مشہور دہر یہ عالم نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سورۃ النبا کی شروع کی آیات آلَم نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهْدًا وَجَنْتِ الْفَافًا کے ترجمہ کا حوالہ دیتے