تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 88
تاریخ احمدیت۔جلد 25 88 سال 1969ء کے چھوٹے بچوں کے ساتھ ایبٹ آباد سے بذریعہ کا ر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اپنی بیماری کی وجہ سے وہ کار سے اتر نہیں سکتے تھے لہذا حضور پر نور از راہ شفقت کرسی پر ان کے پاس تشریف فرما رہے اور ان کی مزاج پرسی فرمائی۔دوران گفتگو کشمیر کے مسئلہ میں جماعت احمدیہ کی خدمات کا ذکر بھی آیا۔مولا نا محمد یعقوب خان صاحب نے اظہار فرمایا کہ کشمیر کی کہانی“ (مؤلفہ چوہدری ظہور احمد صاحب ناظر دیوان ، ناشر مکتبہ لاہور بیڈن روڈ لاہور۔اشاعت مارچ ۱۹۶۹ طبع اول ) پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی واقعی کس قدر عظیم شخصیت کے حامل تھے۔۲۷ جون کو جمعہ کی نماز حضور نے احمد یہ مسجد کلڈ نہ میں پڑھائی اور گزشتہ خطبات کے تسلسل میں ایک روح پرور اور ایمان افروز خطبہ ارشاد فرمایا۔اس خطبہ میں حضور نے اسلام کے اقتصادی نظام کے بعض پہلوؤں کو بیان کرنے کے علاوہ تو حید باری تعالیٰ کے علمی اور عملی حصوں پر بھی بہت لطیف اور پر معارف انداز میں روشنی ڈالی۔۲۹ جون کو صبح ۹ بجے سے ایک بجے تک حضور انور نے انفرادی طور پر دوستوں کو ملاقات کا شرف بخشا۔اس روز راولپنڈی، اسلام آباد ، مری اور بعض دوسرے مقامات کے دوست کثیر تعداد میں تشریف لائے ہوئے تھے۔۴ جولائی کو ناسازی طبع کے باوجود مسجد احمد یہ کلڈ نہ میں نماز جمعہ پڑھائی۔خطبہ جمعہ میں حضور انور نے عام اخلاقی امور کے بارہ میں احباب جماعت سے خطاب فرمایا۔اور اس تعلق میں اسلام کے بعض اصولی احکام پر روشنی ڈالی۔نماز جمعہ کے بعد حضور تھوڑی دیر مسجد میں تشریف فرما ر ہے۔اور احباب جماعت سے مختلف موضوعات پر گفتگو فرماتے رہے۔مسجد سے تشریف لے جاتے ہوئے حضور انور نے بیرونجات سے آئے ہوئے احباب کو شرف مصافحہ بخشا۔۶ جولائی کو حضور انور نے بیرونجات سے آئے ہوئے کثیر احباب سے انفرادی اور اجتماعی طور پر ملاقات کی جن میں بعض غیر از جماعت روؤسا اور غیر ملکی شخصیات بھی شامل تھیں۔۱۹ جولائی کو حضور انور نے مسجد احد یہ کلڈ نہ میں نماز جمعہ پڑھائی۔حضور انور نے اسلام کے اقتصادی نظام پر اپنے گذشتہ خطبات کے تسلسل میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے مخلصین لہ الدین کی رو سے حقیقی عبادت الہی کے چھٹے اور ساتویں تقاضہ پر بصیرت افروز پیرایہ میں روشنی ڈالی۔نماز جمعہ کے بعد حضور انور کچھ عرصہ مسجد میں تشریف فرمارہ کر احباب سے گفتگو فرماتے رہے۔