تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 77 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 77

تاریخ احمدیت۔جلد 24 77 سال 1967ء 78 اُترا۔جہاں جناب محمد افضل صاحب صابر اور جماعت احمد یہ تہران کے دوسرے احباب نے حضور کا استقبال کیا۔اور حضور نے سب احباب کو شرف مصافحہ عطا فرمایا۔سوا دس بجے طیارہ آگے روانہ ہوا۔اور حضور اسی روز تین بجکر چالیس منٹ پر فرینکفورٹ پہنچ گئے۔یہاں فرینکفورٹ کی مخلص جماعت مولوی فضل الہی صاحب انوری مبلغ فرینکفورٹ کی قیادت میں حضور کے استقبال کے لئے موجود تھی۔چوہدری عبد اللطیف صاحب مبلغ جرمنی اور چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ بھی حضور کے استقبال کے لئے ہوائی اڈہ پر آئے ہوئے تھے۔فرینکفورٹ میں مختصر قیام اور دینی مصروفیات یہاں حضور کا قیام نہایت مختصر تھا اور عملاً صرف ایک دن مل سکا۔چنانچہ جو پروگرام مرتب کیا گیا تھا وہ اسی ایک دن میں جو اتوار کا دن تھا پورا کرنا پڑا۔پروگرام کے بڑے تین حصے تھے۔احباب جماعت کی ملاقات ، اجتماعی کھانا اور استقبالیہ۔اسی ترتیب سے یہ تینوں حصے انجام پذیر ہوئے۔ملاقاتیں احباب جماعت کی دلی خواہش کے پیش نظر حضور کی خدمت میں یہ درخواست کی گئی کہ احباب الگ الگ ملاقات کرنا چاہتے ہیں جسے حضور نے از راہ شفقت منظور فرمالیا۔ملاقات کرنے والوں کی فہرست ایک مستعد دوست مرزا محمود احمد صاحب کو دے دی گئی جو ہر ملاقات کرنے والے کو ترتیب کے ساتھ اندر بھیجتے جاتے تھے۔ملاقات کے کمرے میں حضور کے ہمراہ جناب پرائیویٹ سیکرٹری صاحب اور مکرم مولوی فضل الہی انوری صاحب موجود تھے۔کل ۲۷ دوستوں نے ملاقات کی جن میں سے جرمن ، عرب، ۱۶ پاکستانی اور ایک اطالوی دوست تھے۔اس دوران میں حضور نے بالخصوص جرمن احباب کو جو متعد د نصائح فرما ئیں اور جن ارشادات سے نوازا ان کا ترجمہ ذیل میں دیا جاتا ہے۔ایک جرمن نوجوان مسٹر محمود اسمعیل زولش (Mahmud Ismail Gzoelech) سے دوران گفتگو فر مایا: قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے کتاب مکنون بھی قرار دیا ہے۔قرآن کریم کا یہ پوشیدہ حصہ صرف ان پر کھولا جاتا ہے جو اپنے پیدا کرنے والے رب سے پیار کرتے اور اس کے نتیجے میں اس کے پیار سے حصہ لیتے ہیں جو اس امر کا ثبوت ہوتا ہے کہ یہ