تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 72
تاریخ احمدیت۔جلد 24 72 سال 1967ء قصر خلافت سے روانگی بہشتی مقبرہ میں دعا اور بوہ اسٹیشن پر تشریف آوری حضور 4 جولائی ۱۹۶۷ء کو صبح نو بجے قصرِ خلافت سے بذریعہ موٹر کار بہشتی مقبرہ تشریف لے گئے۔جہاں حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم، حضرت مصلح موعود، حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب اور دوسرے بزرگوں کے مزاروں پر دعا کی۔خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد اور جو دیگر احباب حضور کے ہمراہ تھے، اس دعا میں شریک ہوئے۔دعا سے فارغ ہونے کے بعد حضور ریلوے اسٹیشن تشریف لائے۔جہاں ہزاروں احباب ایک نظام کے تحت قطار در قطار کھڑے تھے۔اور حضور کا بیتابی کے ساتھ انتظار کر رہے تھے۔جو نہی حضور موٹر کار سے اتر کر پلیٹ فارم پر تشریف لائے۔فضا نعروں سے گونج اٹھی۔حضور نے پلیٹ فارم پر بہت سے شہروں اور دیہات کے کثیر التعداد احباب کو شرف مصافحہ عطا فرمایا۔چونکہ احباب دُور دُور تک قطاروں میں کھڑے تھے اور پیچھے کھڑے ہوئے احباب کے لئے حضور کی زیارت کرنا ممکن نہیں تھا۔اس لئے حضور نے از راہ محبت و شفقت مشتاقانِ دید کی خاطر ایک کرسی منگوائی۔اور حضور خاصی دیر تک اسپر کھڑے رہے۔تا کہ خود بھی شمع خلافت کے پروانوں کو دیکھ سکیں۔حضور کا کرسی پر کھڑا ہونا تھا کہ احباب میں خوشی اور مسرت کی ایک لہر دوڑ گئی۔اور انہوں نے پھر والہانہ انداز میں پُر جوش نعرے لگانے شروع کر دیئے۔دریں اثنا محمد احمد صاحب انور حیدر آبادی نے لاؤڈ سپیکر پر حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی دعائیہ نظم اے بندہ سبحان خدا حافظ و ناصر خوش الحانی سے پڑھنا شروع کی۔احباب ایک ایک مصرعہ پر زیر لب آمین ثم آمین کہتے رہے۔اس تمام عرصہ میں اور اس کے بعد بھی حضور قریباً پندرہ منٹ تک زیر لب دعاؤں میں مصروف رہے۔اور ہزاروں ہزار احباب بھی اپنی اپنی جگہ کھڑے خاموشی سے دعائیں کرتے رہے۔جب یہ اطلاع موصول ہوئی کہ گاڑی لالیاں پہنچ چکی ہے۔اور اب وہاں سے ربوہ کی جانب روانہ ہونے والی ہے۔تو حضور نے دس بج کر دس منٹ پر ہاتھ اُٹھا کر اجتماعی دعا کرائی۔جس میں سب احباب شریک ہوئے۔یہ دعا ایک خاص شان کی حامل تھی۔بہت دیر تک اسٹیشن اور اس کا ماحول ہزار ہا قلوب سے نکلنے والی متضر عانہ دعاؤں کے دوران احباب کی ہچکیوں اور سسکیوں کی دھیمی آوازوں سے گونجتا رہا۔اجتماعی دعا سے فارغ ہونے کے بعد مزید پندرہ منٹ تک انفرادی طور پر زیر لب دعاؤں کا سلسلہ جاری رہا۔نیز درمیان میں حضور حسب ضرورت بعض احباب سے گفتگو بھی فرماتے رہے۔